مخالفین کا انجام :۔ ذکر تھا کہ لیکھرام کی یاد گار میں ایک رسالہ نکلتاہے ۔ چونکہ لیکھرام نے اپنا نام آریہ مسافر لکھا تھا اس واسطے اس رسالہ کا نام بھی آریہ مسافر رکھا گیا ہے ۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ وہ تو اپنے اعتراضات کا جواب اپنی موت کے ساتھ آپ ہی دے گیا ہے ۔ وہ مسافر بنتا تھا خدا تعالیٰ نے اُسے ایسا مسافر بنایا کہ پھر کبھی واپس نہ آیا۔ فرعون کہنے والے مرتے جاتے ہیں:۔ ایسا ہی وہ تمام لوگ جو مجھے فرعون کہتے تھے ، ہلاک ہوگئے ۔ محی الدین لکھو کے والے نے اپنا الہام شائع کیا تھا کہ مرزا صاحب فرعون ہیں۔ چراغ الدین نے بھی مجھے فرعون لکھا تھا۔ الٰہی نے بھی مجھے فرعون لکھا۔ مگر یہ عجیب فرعون ہے کہ پہلا فرعو ن تو موسیٰ کے مقابلہ میں ہلاک ہوگیا تھا اور یہاں فرعون تو زندہ ہے اور موسیٰ دن بدن ہلاک ہوتے جاتے ہیں۔ نزول بَلا کا وقت:۔ فرمایا:۔ حدیثوں سے ثابت ہے کہ نزول بَلا عموماً رات کے وقت اور بعد مغرب تاریکی پھیلنے کے وقت ہوتاہے ۔ ۱؎ خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا گستاخی ہے:۔ فرمایا:۔ خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا بڑی گستاخی ہے ۔ یہ لوگ کس گنتی میںہیں۔ ایک نبی ( یونسؑ ) بھی صرف لَنْ اَرْجِعَ اِلیٰ قَوْمِیْ کَذَّاباً کہنے سے زیر عتاب ہوا دراصل خدا تعالیٰ کے کسی فعل پر شرح صدر نہ رکھنا ایک مخفی اعتراض ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوتاہے وَلَا تَکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ( القلم :۴۹) ایسے امور میں مخاطب تو انبیاء ہوتے ہیں مگر دراصل سبق امت کو دینا منظور ہوتا ہے۔ ہمارے بارے میں حق کے فیصلہ کے لیے کس قدر کھلی ہوئی راہ ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں جس کی نظیر اگلی امتوں میں موجود نہیں۔ دیکھو مسیح کی دوبارہ آمد کا مسئلہ ایلیا کی آمد سے کیسا صاف ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس پر دونوں قوموں کا باوجود اختلاف کے اتفاق ہے جیسا مسیح کے صلیب پر چڑھانے جانے کے بارے میں