خریدی جائے۔ کیونکہ یہ کتاب غلطی کے سبب ساری کی ساری ہر دو اخباروں میں یک دفعہ چھپ چکی ہے اور جس دوست کی ملکیت میں وہ کتاب ہے اس کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ۱؎ ۵؍ اپریل ۱۹۰۷ئ؁ ایک تازہ الہام :َ تازہ الہام حٰمٓ۔تِلْکَ اٰیَاتُ الْکِتَابِ الْمُبِیْنِ۔ راز کھل گیا کا ذکر تھا۔ فرمایا:۔ تفہیم یہی ہوئی ہے کہ یہ پیشگوئی ہے ۔ سابقہ کتب کی مثال ؛۔ پہلی کتابوں کا ذکر تھا جو منسوخ شدہ ہیں اور محرف و مبدل ہیں۔ فرمایا:۔ اب ان کی مثال ایک مسمار شدہ عمارت کی طرح ہے۔ جس طرح کوئی عمارت گر جاتی ہے اور اس کی اینٹیں اُوپر نیچے کہیں کی کہیں جا پڑتی ہیں۔ پاخانے کی اینٹ باورچی خانے میں اور باورچی خانے کی اینٹ پاخانے میں چلی جاتی ہے۔ وہ مکانات اب اس قابل نہیں رہے کہ اُن میں رہائش اختیار کی جائے جو اُن کو اپنا مسکن بنائے وہ محلات میں رہنے والوں کی طرح آرام پا نہیں سکتا۔ دیسی جڑی بوٹیاں:۔ سیر میں برلبِ سٹرک خودرو بوٹیوں کی طرف اشارہ کرکے اور حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب کو مخاطب کرکے حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔ یہ دیسی بوٹیاں بہت کار آمد ہوتی ہیں مگر افسوس کہ لوگ ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ۔ حضرت مولوی صاحب نے عرض کیا کہ یہ بوٹیاں بہت مفید ہیں۔ گندلوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ہندو فقیر لوگ بعض اسی کو جمع کر رکھتے ہیں اور اسی پر گذارا کرتے ہیں۔ یہ بہت مقوی ہے اور اس کے کھانے سے بواسیر نہیں ہوتی ۔ ایسا ہی کنڈیاری کے فائدے بیان کئے جو پاس ہی تھی۔ حضرت نے فرمایا کہ :۔ ہمارے ملک کے لوگ اکثر اُن کے فوائد سے بے خبر ہیں اور اس طرح توجہ نہیں کرتے کہ اُن کے ملک میں کیسی عمدہ دوائیں موجود ہیں جو کہ دیسی ہونے کے سبب اُن کے مزاج کے موافق ہیں۔ ۱؎ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۷ئ؁