کچھ نہیں بنتا ہے جب تک کہ ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جاوے۔ سب سے اول حقوق اللہ کو ادا کرو۔ اپنے نفس کو جذبات سے پاک رکھو۔ اس کے بعد حقوق عباد کو ادا کرو اور اعمال ِ صالحہ کو پورا کرو۔ خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لائو اور تضرع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور میں دُعا کرتے رہو اور کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن تم نے خدا تعالیٰ کے حضور رد کر دُعانہ کی ہو۔ اس کے بعد اسباب ظاہری کی رعایت رکھو۔ جس مکان میں چوہے مرنے شروع ہوں اس کو خالی کردو۔ اور جس محلہ میں طاعون ہو اس محلہ سے نکل جائو اور کسی کھلے میدان میں جاکر ڈیرا لگائو۔ جو تم میں سے بتقدیر الٰہی طاعون میں مبتلا ہو جاوے اس کے ساتھ اور اس کے لواحقین کے ساتھ پوری ہمدردی کرو اور ہر طرح سے اس کی مدد کرو اور اس کے علاج معالجہ میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھو لیکن یاد رہے کہ ہمدردی کے یہ معنے نہیں کہ اس کے زہریلے سانس یا کپڑوں سے متاثر ہو جائو۔ بلکہ اس اثر سے بچو۔ اُسے کھلے مکان میں رکھو اور جو خدا نخواستہ اس بیماری سے مرجائے وہ شہید ہے۔ اس کے واسطے ضرورت غسل کی نہیں اور نہ نیا کفن پہنانے کی ضرورت ہے ۔ اس کے وہی کپڑے رہنے دو اور ہو سکے تو ایک سفید چادر اس پر ڈال دو اور چونکہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں زہریلا اثر زیادہ ترقی پکڑتاہے اس واسطے سب لوگ اس کے گرد جمع نہ ہوں۔ حسبِ ضرورت دو تین آدمی اس کی چارپائی کو اُٹھائیں اور باقی سب دور کھڑے ہوکر مثلاً ایک سو گزکے فاصلہ پر جنازہ پڑھیں۔ جنازہ ایک دُعا ہے اور اس کے واسطے ضروری نہیں کہ انسان میت کے سر پر کھڑا ہو۔ جہاں قبرستان دور ہو مثلاً لاہور میں سامان ہو سکے تو کسی گاڑی یا چھکڑے پر میت کو لاد کر لے جاویں اور میت پر کسی قسم کی جزع فزع نہ کی جاوے۔ خدا تعالیٰ کے فعل پر اعتراض کرنا گناہ ہے ۔
اس بات کا خوف نہ کرو کہ ایسا کرنے سے لوگ تمہیں بُرا کہیں گے وہ پہلے کب تمہیں اچھا کہتے ہیں ۔ یہ سب باتیں شریعت کے مطابق ہیں اور تم دیکھ لو گے کہ آخر کار وہ لوگ جو تم پر ہنسی کریں گے خود بھی ان باتوں میں تمہاری پیروی کریں گے ۔
مکرراً یہ بہت تاکید ہے کہ جو مکان تنگ اور تاریک ہو اور ہوا اور روشنی خوب طور پر نہ آسکے اس کو بلا توقف چھوڑ دو کیونکہ خود ایسا مکان ہی خطرناک ہوتاہے گو کوئی چوہا بھی اس میں نہ مرا ہو اور حتی الامکان مکانوں کی چھتوں پررہو۔ نیچے کے مکان سے پر ہیز کرو اور اپنے کپڑوں کو صفائی سے رکھو ۔ نالیاں صاف کراتے رہو۔ سب سے مقدم یہ کہ اپنے دلوں کو بھی صاف کرو اورخداتعالیٰ کے ساتھ پوری صلح کرلو۔
کتاب ’’ قادیان کے اریہ اور ہم ‘‘ :۔
حضرت نے فرمایا ہے کہ کتاب ’’ قادیان کے آریہ اور ہم ‘‘ تمام دوست مرد اور عورت جو مقدرت رکھتے ہیں ۔ ایک ایک جلد خرید فرما ویں اور نیز آریوں کے درمیان مفت تقسیم کرنے کے واسطے