فرمایا:۔ جو دعائیں قرآن شریف میں ہیں ان میں کوئی تغیر جائز نہیں کیوں کہ وہ کلام الٰہی ہے وہ جس طرح قرآن شریف میں ہے اسی طرح پڑھنا چاہیئے ۔ ہاں حدیث میں جو دعائیں آئی ہیں۔ ان کے متعلق اختیار ہے کہ صیغہ واحدکی بجائے صیغہ جمع پڑھ لیا کریں۱؎۔ یکم اپریل ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت سیر ) طاعون زدہ علاقوں کے احمدیوں کے واسطے حکم :۔ صبح کو حضرت اقدس مع خدام باہر سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔ راستہ میں عاجز ۲؎ راقم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ:۔ اخبار میں چھاپ دو اور سب کو اطلاع کر دو کہ یہ دن خدا تعالیٰ کے غضب کے دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کئی بار مجھے بذریعہ وحی فرمایا ہے کہ غَضَبْتُ غَضَبًا شَدِیْدًا۔ آج کل طاعون بہت بڑھتا جاتاہے اور چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے ۔ میں اپنی جماعت کے واسطے خدا تعالیٰ سے بہت دُعا کرتاہوں کہ وہ اس کو بچائے رکھے۔ مگر قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جب قہر الٰہی نازل ہوتاہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں اور پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ دیکھو۔ حضرت نوحؑ کا طوفان سب پر پڑا۔ اور ظاہر ہے کہ ہر ایک مرد عورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوحؑ کا دعویٰ اور اس کے دلائل کیا ہیں۔ جہاد میں جو فتوحات ہوئیں وہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں۔ لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے۔ کافر جہنم کوگیا اور مسلمان شہید کہلایا۔ ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے کہ اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں۔ ہم خداتعالیٰ کے حضور دعا میں مصروف ہیں کہ وہ ان میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے لیکن جماعت کے آدمیوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے