منع ہے خواہ طاعون ہو یا نہ ہو۔ وَالرُّجْزَ فَاھْجُرْ کا حکم ہے۔ ہرایک پلیدی سے پرہیز رکھنا چاہیئے ۔ کپڑے صاف ہوں۔ جگہ ستھری ہو۔ بدن پاک رکھا جائے۔ یہ ضروری باتیں ہیں اور دعا اور استغفار میں مصروف رہنا چاہیئے۔
حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی طاعون ہوئی تھی۔ ایک جگہ مسلمانوں کی فوج گئی ہوئی تھی۔ وہاں سخت طاعون پڑی۔ جب مدینہ شریف میں امیرالمومنین کے پاس خبر پہنچی تو آپ نے حکم لکھ بھیجا کہ فوراً اس جگہ کو چھوڑ دو اور کسی اونچے پہاڑ پر چلے جائو۔ چنانچہ وہ فوج اس سے محفوظ ہوگئی۔ اس وقت ایک شخص نے اعتراض بھی کیا کہ کیا آپ خدا تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگتے ہیں؟ فرمایا۔ میں ایک تقدیر خداوندی سے دوسری تقدیر خداوندی کی طرف بھاگتا ہوں اور وہ کونسا امر ہے جو خداتعالیٰ کی تقدیر سے باہر ہے۔
طاعون سے بچانے کے دو وعدے :۔
فرمایا:۔
خدا تعالیٰ نے دو وعدے اپنی وحی کے ذریعہ سے کئے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس گھر کے رہنے والوں کو طاعون سے بچائے گا جیسا کہ اس نے فرمایا ہے کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ ۔ دوسرا وعدہ اس کا ہماری جماعت کے متعلق ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْاایْمَانَھُم بِظُلْمٍ اُوْلٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ (ترجمہ)جن لوگوں نے مان لیا ہے اور اپنے ایمان کے ساتھ کسی ظلم کو نہ ملایا۔ ایسے لوگوں کے واسطے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ اس میں خداتعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے کہ جماعت کے وہ لوگ بچائے جائیں گے جو پوری طور سے ہماری ہدایتوں پر عمل کریں اوراپنے اندرونی عیوب اور اپنی غلطیوں کی میل کو دور کردیں گے اور اپنے نفس کی بدی کی طرف نہ جھکیں گے۔ بہت سے لوگ بیعت کر کے جاتے ہیں مگر اپنے اعمال درست نہیں کرتے۔ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کیا بنتا ہے۔ خداتعالیٰ تو دلوں کے حالات سے واقف ہے۔ ۱؎
بلا تاریخ
ہمدردی اور احتیاط :۔
سوال ہوا کہ طاعون کا اثر ایک دوسرے پر پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں طبیب کے واسطے کیا حکم ہے ؟
فرمایا:۔
طبیب اور ڈاکٹرکو چاہیئے کہ وہ علاج معالجہ کرے اور ہمدردی دکھائے لیکن اپنا بچائو رکھے ۔ بیمار کے بہت قریب جانا اور مکان کے اندر جانا اس کے واسطے ضروری نہیں ہے وہ حال معلوم کر کے مشورہ دے ۔ایسا ہی خدمت کرنے والوں کے واسطے بھی ضروری ہے کہ اپنا بچائو بھی رکھیں اور بیمار کی ہمدردی بھی کریں۔
طاعون سے مرنے والا مومن شہید ہوتا ہے:۔