۲۸؍ مارچ ۱۹۰۷ئ
بوقت ظہر
صدقہ جاریہ :۔
ایک شخص کا خط حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ انسان اپنی زندگی میںکس طرح کا صدقہ جاریہ چھوڑ جائے کہ مرنے کے بعد قیامت تک اس کا ثواب ملتا رہے۔
فرمایا کہ :۔ قیامت تک کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ہر ایک عمل انسان کا جو اس کے مرنے کے بعد اس نے آثار دُنیا میں قائم رہیں وہ اس کے واسطے موجب ثواب ہوتا ہے ۔ مثلاً انسان کا بیٹا ہو اور وہ اسے دین سکھلائے اور دین کا خادم بنائے تو یہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب اس کو ملتا رہے گا۔ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ ہر ایک عمل جو نیک نیتی کے ساتھ ایسے طور سے کیا جائے کہ اس کے بعد قائم رہے وہ اس کے واسطے صدقہ جاریہ ہے۔
طاعون سے بچنے کا طریق :۔
ذکر ہوا کہ اس سال طاعون بہت پھیل رہی ہے اور پچھلے سالوں کی طرح صرف عام لوگ گرفتار نہیں ہوئے بلکہ خواص اور بڑے بڑے امیر ہلاک ہو رہے ہیں جیسا کہ اخباروں میں درج ہو رہا ہے۔
فرمایا:۔ باوجود اس سختی کے جو طاعون کے سبب وارد ہو رہی ہے لوگ اس طرف ابتک نہیں آتے کہ دُنیوی حیلے تو سب فضول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکنا چاہیئے بلکہ ابھی تک لوگ یہی تجاویز پیش کرتے ہیں کہ مچھروں کو مارواور پسوئوں کو مارولیکن جب تک اپنے آپ کو مارنے کی طرف متوجہ نہ ہوں گے وہ کبھی نجات نہ پائیں گے ۔
محنت کا پھل :۔
ذکر تھا کہ جو لوگ دراصل خدا تعالیٰ کے عابد نہیں ہیں لیکن ریا کے طور پر یا غلط راہ پر چل کر لمبی عبادتیں کرتے ہیں ان کو بھی کچھ کچھ ظاہری قبولیت اور فوائد حاصل ہو ہی جاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا:۔
چونکہ ایک محنت شاقہ اُٹھاتے ہیں اس کا عوض کچھ نہ کچھ ان کو دے دیا جاتاہے۔ کہتے ہیں کہ ایک گبرچالیس سال تک ایک جگہ آگ پر بیٹھا رہا اور اس کی پرستش میں مصروف رہا۔ چالیس سال کے بعد جب وہ اُٹھا تو لوگ اس کے پائوں کی مٹی آنکھ میں ڈالتے تھے تو اُن کی آنکھ کی بیماری اچھی ہو جاتی تھی۔ اس بات کو دیکھ کر ایک صوفی گھبرایا اور اس نے سوچا کہ جھوٹے کو یہ کرامت کس طرح سے مل گئی اور وہ اپنی حالت میں مذبذب ہوگیا