دوں ۔ اور یہ ڈوئی امریکہ کا ایک شخص تھا جس کا دعویٰ تھا کہ میں نبی ہوں اور اس کا اثر امریکہ سے لے کر یورپ پڑا تھا اور کہتے ہیں کہ سات کروڑ روپے کا مالک تھا۔ پس اس مباہلہ کے بعد اس کا روپیہ چھینا گیا اور صیحون گائوں جس کو اس نے بسایا تھا اس میں سے نکالا گیا۔ پھر فالج پڑااور ایسا پڑا کہ پچکاری سے پاخانہ نکالتے تھے اور آخر فروری ۱۹۰۷ئ میں مر ہی گیا۔
پس یہ ایک نشان تھا جس نے تمام یورپ اور امریکہ پر اور سعداللہ کی موت نے ہندوستان پر حجت قائم کر دی ہے ۔ اور یادرکھنا چاہئے کہ یہ شخص بھی ہمارا سخت
دشمن تھا۔ پس ان دو نشانوں اور دوسرے کئی نشانوں نے مل کر دُنیا پر ثلج کی پیشگوئی کا پورا ہونا ثابت کرد یا۔ اور پھر یہی نہیں اصل الفاظ میں بھی یہ پیشگوئی کھلے طور پر پوری ہوگئی یعنی اس موسم بہار کے موسم میں جیسا کہ لکھاگیا تھا کہ بہار کے موسم میں ایسا ہوگا۔ ایسی سخت سردی اور بارش اور ژالہ باری ہوئی ہے کہ دُنیا چیخ اُٹھی ہے ۔ جیسا کہ آج (۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ئ) کو بھی بارش ہو رہی ہے اور سخت سردی پڑ رہی ہے۔ پس یادرکھنا چاہیئے کہ کیسے کھُلے الفاظ میں اور کیسی صریح یہ پیشگوئی تھی جو کہ اپنے ہر ایک پہلو پر پوری ہوئی۔
طاعون کا نشان :۔ فرمایا:۔
ہندوستان میں چاروں طرف طاعون پھیل رہی ہے اور قریباً گیارہ برس ہوگئے کہ یہ مرض یہاں ترقی کر رہاہے اور اب کے سال تو بہت ہی تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ معلوم نہیں کہ کب تک اس کا دوردورہ رہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتاہے کہ جب تک لوگ اپنے دلوں کو صاف نہیں کریں گے میں اس مرض کو نہیں ہٹائوں گا۔ اور باوجود انگریزوں کے زور لگانے کے اس کا اب تک تو علاج کوئی نہیں نکلا۔ ٹیکہ ایجاد کیا وہ بھی ناکارہ ثابت ہوا۔ چوہے مروائے اس سے بھی کچھ فائدہ نہ ہوا۔ اب مچھر مروانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر طاعون اسی طرح تیزی پر شروع ہے بلکہ اور بھی بڑھ رہا ہے ۔ مگر مجھ کو خدا تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ تیرے گھر کی چار دیواری میں رہنے والوں کو اس مرض سے بچائوں گا اور دیکھو کہ اب تک کئی دفعہ اس نواح میں سخت طاعون پڑچکی ہے اور گائوں کے گائوں خالی ہوگئے ہیں اور خود قادیان میں بھی طاعون کئی دفعہ پڑچکا ہے مگر اس گھر کو خدا تعالیٰ نے بچائے رکھا اور کوئی آدمی بھی اس مرض سے نہیں مرا بلکہ اس گھر کا کوئی چوہا بھی ہلاک نہیں ہوا۔ پس کیا ہی خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم ہے۳؎