نہیں کر سکتے کہ اُن کو ساتھ ہی دینی عقل بھی حاصل ہو گئی ہے بلکہ دینی عقل تقویٰ سے تیز ہوتی ہے۔
خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے لَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ ( الواقعۃ: ۸۰) جس قدر پاکیزگی بڑھتی ہے اسی قدر معرفت بھی بڑھتی جاتی ہے۳؎
۲۴؍اپریل ۱۹۰۶ئ
جماعت کی ایمانی حالت مضبوط ہوتی جائیگی :۔
(میاں معراج الدین صاحب عمر کے قلم سے )
آج صبح کی گاڑی میں سوار ہو کر میں قریب ایک بجے کے قادیان پہنچا ۔ تھوڑے عرصہ بعد اذان نماز ہوئی ۔ وضو کرکے میں چھوٹی مسجد میں پہنچا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام چھوٹے حجرے میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے پاس مولوی سید محمد احسن صاحب اور مولوی محمد علی صاحب بیٹھے تھے ۔ اور میاں غلام رسول حجام امرتسری کچھ اپنا حال بیان کر رہا تھا۔
اس پر حضور نے فرمایاکہ :۔
آپ صبر کریں ۔ ہماری جماعت کی حالت ابتدائی ہے ۔ یہ ابھی کچے درخت کی طرح ہیں۔ دیکھو بڑے سے بڑا درخت شیشم یا کوئی اور جب چھوٹا ہوتاہے تو بہت تھوڑی طاقت سے بلکہ ناخن سے اُکھڑسکتاہے ۔ اسی طرح ہماری جماعت کے بعض لوگ ابھی ایمانی حالت میں ایسے ہی کمزور ہیں۔ جیسے درخت بڑا ہوکر ایسا مضبوط ہوتا جاتاہے کہ اس پر آدمی چڑھتے ہیں تو وہ ٹوٹتا نہیں ۔ ایسے ہی ان کی ایمانی حالت رفتہ رفتہ مضبوط ہو جائے گی اور پھر مضبوط درخت کی طرح جاگزین ہو جائے گی۔۱؎
۲۶؍اپریل ۱۹۰۶ئ
غیر معمولی ایام :۔
فرمایا: یہ دن ایسے ہیں کہ گویا آسمان کی زمین کے ساتھ کُشتی ہے ۔ بالکل غیر معمولی دن ہیں اور غیر معمولی واقعات ہر طرف سے پیش آرہے ہیں اور