لیے بہتر سمجھ کر خدا تعالیٰ سے دُعا مانگتا ہے وہ حاصل ہو جاتی ہے لیکن اور شراس سے پیدا ہوتاہے جو پہلے شر سے بڑھ کر ہوتاہے اس واسطے دُعا جامع کرنی چاہئے ۔ میں آپ کے واسطے دُعا کرتاہوں کہ خداتعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے اور دراصل محفوظ رکھنے والا وہی ہے۔
حضرت عیسیٰؑ کی دوبارہ آمد:۔ فرمایا
ایک دفعہ حضرت عیسیٰؑ زمین پر آئے تھے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا تھا کہ کئی کروڑ مشر ک دُنیا میں ہوگئے ۔ دوبارہ آکر وہ کیابنائیں گے کہ لوگ ان کے آنے کے خواہشمند ہیں۔۲؎
۲۱؍مارچ ۱۹۰۷ئ
پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن ۳؎
فرمایا کہ :۔
دیکھو ثلج کے آنے کے دن والی پیشگوئی کس طرح پوری ہوگئی اور میں نے اس کے دو پہلو لیے تھے ایک تو یہ کہ خداتعالیٰ کچھ ایسے نشان دکھائے جن کی وجہ سے لوگوں پر حجت قائم ہو جائے او ردل تسکین پکڑ جائے اور دوسرا یہ کہ سخت بارش اور سردی اور ژالہ باری ہو جو ایک زمانہ دراز سے کبھی نہ ہوئی ہو۔ تو خدا تعالیٰ نے یہ دونو پہلو پورے کر دئیے۔ یہ نشان اس طرح متواتر ظہور میں آئے کہ نہ صرف پنجاب بلکہ یورپ اور امریکہ پر بھی حجت قائم ہوگئی یعنی ڈوئی کی موت سے ۔ کیونکہ جب ڈوئی نے کہا کہ میں دعا کرتاہوں کہ اسلام بالکل تباہ ہو جائے اور اُمید کرتاہوں کہ میری دُعا قبول ہوگی تو اس وقت میں نے ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں ڈوئی سے مباہلہ کیا کہ توُ تو حضرت عیسیٰؑ کو خدا اور عیسائیت کو سچا سمجھتا ہے مگر میں اس کے برخلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک انسان اور خد اتعالیٰ کا نبی مانتا ہوں اور سلام کو سچا مذہب جانتاہوں۔ پس ہم میں سے جو جھوٹا ہوگا وہ سچے کے سامنے مر جائے گا اور میں نے یہ بھی لکھا کہ اگر تو مباہلہ نہ کرے گا تو بھی تو ضرور ہلاک ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں ڈوئی نے لکھا کہ میں کیڑوں مکوڑوں کا مقابلہ نہیں کرنا چاہتا اور اگر میں چاہوں تو اُن و پائوں کے نیچے کچل