اچھی نہیں ہوتی۔ اس کا انجام بد ہوتاہے ۔ اپنی شوخیوں سے ہی آدمی مارا جاتاہے ۔ کثرتِ ملاقات کی برکات:۔ سیالکوٹ کے ایک مولوی صاحب کا ذکر ہوا کہ وہ ایک جگہ مخالف مولویوں کے ساتھ مباحثہ کرنے گئے ہیں۔ فرمایا:۔ مباحثات کا حق ان کو نہیں پہنچتا کیونکہ وہ ہماری ملاقات سے بہت تھوڑا حصہ لیے ہوئے ہیں اور ان کو ہماری صحبت میں رہنے کا اتفاق بہت تھوڑا ہوا ہے اور جو ہوا ہے اس کو بہت مدت گذر چکی ہے ۔ یہاں رات دن نئے دلائل پیدا ہوتے ہیں۔ صرف کتابوں کے دیکھنے سے کام نہیں چلتابلکہ حاضری شرط ہے کیونکہ علم میں دن بدن ترقی ہوتی ہے۔ حضرت مولوی محمد احسن صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:۔ ہاں یہ حق آپ کو پہنچتاہے کیونکہ آپ کی توجہ دن رات اسی کام کی طرف ہے۔ پرانی باتیں بھی آپ کے ذہن نشین ہیں اور تازہ باتیں بھی آپ کے دماغ میں ہیں اور آپ کو اس سلسلہ کے امور اور دلائل سے اچھی طرح واقفیت ہے جب تک ایسا آدمی نہ ہو اس سے خطرہ ہے کہ لاعلمی کے سبب کہیں ٹھوکر کھائے۔ مسلمان کیلئے فری میسن ہونا ارتدار کا حکم رکھتاہے:۔ امیر کابل کا ذکر تھا کہ اس کے فری میسن ہونے کے سبب اس کی قوم اس پر ناراض ہے۔ فرمایا:۔ اس ناراضگی میں وہ حق پر ہیں کیونکہ کوئی موحد اور سچا مسلمان فری میسن میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس کا اصل شعبہ عیسائیت ہے اور بعض مدارج کے حصول کے واسطے کھلے طور پر بپتسمہ لینا ضروری ہوتاہے۔ اس لیے اس میں داخل ہونا ایک ارتداد کا حکم رکھتاہے ۔ ۱؎ ۲۰؍مارچ ۱۹۰۷ئ؁ دُعا جامع کرنی چاہئے:۔ ایک دوست نے کسی خاص چیز کے حصول کے واسطے عرض کیا۔ فرمایا:۔ یہی دُعا کرو کہ جو امر اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترہے وہی ہو جائے کیونکہ بعض دفعہ انسان ایک چیز کو اپنے