کے واسطے نجات ہی نہ ہو۔ یہ مذہب توآریوں کا ہے کہ انسان کے واسطے نجات کبھی نہیں۔ ہو کسی نہ کسی جُون میں پڑا رہے گا، لیکن معلوم نہیں ہوتا ہے کہ لاکھوں کروڑوں کیڑے مکوڑے کب تک انسان بنیں گے ۔ ایک ایک قطرے میں صدہا کیڑے پائے جاتے ہیں۔ آریوں کا پرمیشر کیا دیا لو ہے کہ کلجگ آگیا مگر تاحال کوئی صورت مکتی کی انسانوں کے واسطے پیدا نہیں ہوئی۔۱؎ بلاتاریخ بچے کے کان میں اذان :۔ حکیم محمد عمر صاحب نے فیروز پور سے دریافت کیا کہ جب بچہ پیدا ہوتاہے تو مسلمان اس کے کان میں اذان کہتے ہیں ۔ کیا یہ امر شریعت کے مطابق ہے یا صرف ایک رسم ہے؟ فرمایا:۔ یہ امر حدیث سے ثابت ہے اور نیز اس وقت کے الفاظ کان میں پڑے ہوئے انسان کے اخلاق اور حالات پر ایک اثر رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ رسم اچھی ہے جائز ہے ۔