’’ اور میں نے کسی کو نہیں کہا کہ زلزلہ یا طاعون سے ڈر کر قادیان میں آجائیں۔ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہیں اور زلزلہ کے دن قریب آتے جاتے ہیں جس سے جانوں کا بہت نقصان ہوگا مگر نہیں معلوم کہ ہو نہایت سخت زلزلہ کب آئے گا۔ ڈوئی کا مرنا حقیقت میں بڑی فتح
ہے۔ تمام اخباروں میں اس کا ذکر ہے۔ ‘‘
ایک تازہ نشان :۔
ذکر تھا کہ آج کل بہت سے شہروں میں سخت طاعون ہے اور قادیان کے اردگرد بھی بہت طاعون ہے۔ صرف گائوں میں نسبتاً آرام ہے۔ فرمایا:۔ ہر ایک خبر کا حال نسبتاً ہی معلوم ہوتا ہے دوسری جگہوں میں قہرالٰہی کی آگ برس رہی ہے مگر جب سے کہ یہ الہام ہو اہے کہ
یا اللہ ! اب شہر کی بلائیں بھی ٹال دے۔‘‘
تب سے قادیان میں گویا امن ہے۔ یہ بھی ایک تازہ نشان ہے اور سوچنے والوں کے واسطے ازدیادایمان کا موجب ہے ۔
خواص کی موت کا نشان :۔
ذکر آیا کہ اب تو اخباروں میں بڑے بڑے آدمیوں کے مرنے کی خبریں آرہی ہیں۔ فرمایا:۔
یہ اس الہام الٰہی کے منشاء کے مطابق ہے جس میں خبر دی گئی ہے کہ مِنَ النَّاسِ وَالْعَامَّۃِ یعنی طاعون میں اس حصہ خاص کے لوگ بھی ہلاک ہوں گے اور عام بھی۔
جہنم کا عذاب دائمی نہیں ہوگا:۔
ایک دوست کا خط پیش ہوا کہ چکڑالوی مُلاں نے اپنا مذہب یہ شائع کیا ہے کہ جب انسان مر جاتا ہے تو ساتھ ہی روح بھی مرجاتی ہے اور قیامت کے دن پھر ہر دو زندہ کئے جاویں گے تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی کو جو پہلے مرا ہے زیادہ مدت تک عذاب ہو اور جو قیامت کے قریب مرے گا اس کو عذاب تھوڑی مدت ہو۔
حضرت نے فرمایا:۔
یہ چکڑالوی کی جہالت کا خیال ہے۔ یہ اعتراض تو تب وارد ہو سکتا ہے جبکہ جہنم کا عذاب ہمیشہ کے واسطے ہو جس سے انسان کے واسطے کبھی بھی چھٹکار ا ہونے والا نہیں ہے اور ہمیشہ کے واسطے وہ جہنم میں رہے گا۔ یہ مذہب بالکل غلط ہے اور قرآن شریف اور حدیث کے بالکل برخلاف ہے۔ قرآن شریف سے یہ امر ثابت ہے کہ ایک وقت عذاب کا گذار کر انسان رفتہ رفتہ عذاب جہنم سے بچایا جائے گا۔ خدا تعالیٰ غفور رحیم ہے ۔ یہ بات بالکل غیر معقول ہے کہ جس انسان کو خدا تعالیٰ نے آپ پیدا کیاہے اور وہ اس کی مخلوق ہے اور اس کی کمی بیشی میں اس کے خلق کا حصہ ہے وہ اس کو ایسا عذاب دیدے کہ کبھی اس