نہایت ہی نیک مرداور پارسا تھے( شاید شیخ نظام الدینؒ یا خواجہ قطب الدینؒ) دُعا کے لیے فرمایا۔ انہوں نے بہت دُعا کی مگر پھر بھی کچھ اثر نہ پایا گیا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے ایک رات بہت دُعا مانگی کہ اے میرے خدا ۔ اس شاگرد کو وہ درجہ عطا فرما کہ اس کی دُعائیں قبولیت کا درجہ پائیں۔ اور صبح کے وقت ان کو کہا کہ آج ہم نے تمہارے لیے یہ دُعا مانگی ہے۔ یہ سن کر شاگرد کے دل میں بہت ہی رقت پیدا ہوئی اور اس نے اپنے دل میں کہا کہ جب انہوںنے میرے لیے ایسی دُعا کی ہے تو آئو پہلے انہیں ہی شروع کرو اور انہوں نے اس قدر زور شور سے دُعا مانگی کہ باوا غلام فریدؒ کو شفا ہوگئی۔
آفات کے وقت دُعا کی ضرورت:۔
بارش سخت زور سے ہو رہی تھی اور کوئی وقت ایسا نہ ہوتاتھا کہ بادل پھٹے ۔ مکانوں کے گرنے کا سخت اندیشہ ہو رہا تھا۔ آپ نے فرمایاکہ
ہمیشہ بارشوں یا آندھیوں اور طوفانوں میں خدا تعالیٰ سے دُعا مانگنی چاہیئے کہ وہ ہمارے لیے اس عذاب میں کوئی بہتری کی ہی صورت پید اکرے اور ہر ایک شر سے محفوظ رکھے جو اس سے پیدا ہوتاہے ۔ اسی طرح پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے وقتوں میں دُعا مانگا کرتے تھے اور جب بارش یا آندھی آتی تھی کو گھبرائے سے معلوم ہوتے تھے اور کبھی اندر جاتے تھے اور کبھی باہر جاتے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آگئی۔ گو قیامت کی بہت سے نشانیاں ان کو بتائی گئیں تھیںاور ابھی صبح مسیح کی آمد کا بھی انتظار تھا مگر پھر بھی وہ خیال کرتے تھے کہ خدا تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے اس لیے سب کو چاہئے کہ اس کی بے نیازی سے ڈرتے رہیں اور ہمیشہ ایسے موقعوں پر خصوصیت سے دُعا میں لگے رہیں۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مَہَد میں کلام :۔فرمایا کہ :۔
حضرت عیسیٰؑ کی نسبت لکھا ہے کہ وہ مہد میں بولنے لگے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ پیدا ہوتے ہی یا دو چار مہینہ کے بولنے لگے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ جب وہ
دو چار برس کے ہوئے کیونکہ یہی وقت تو بچوں کا پنگھوڑوں میں کھیلنے کا ہوتا ہے اور ایسے بچے کے لیے باتیں کرنا کوئی تعجب انگیز امر نہیں ۔ ہماری لڑکی امۃ الحفیظ بھی باتیں کرتی ہے۔ ۱؎
۱۴؍ مارچ ۱۹۰۷ئ
دل کی استقامت کیلئے استغفار کی ضرورت:۔
امرتسر سے برادراحمد حسین صاحب کا خط حضرت کی خدمت میں آیا جس میں دل کے خوف کا علاج حضرت سے پوچھا ہوا تھا اور لکھا تھا کہ سُنا گیا ہے کہ حضور نے فرمایا ہے کہ پچیس دن سے پہلے لوگ یہاں چلے آئیں اور ڈوئی کے نشان پر مبارکباد تھی۔ اس کے جواب میں حضور نے تحریر فرمایا:۔
’’دل کی استقامت کے لیے بہت استغفار پڑھتے رہیں۔ ‘‘
آفات سے بچنے کا طریق:۔