ذکر ہوا کہ خاندانِ مغلیہ کے آخری بادشاہ کے وقت جو کچھ انگریزوں نے سلوک کیا ہے اس پر ایک اخبار نے بہت سا شور مچایا ہے اور اس کو بُرا منایا ہے ۔ فرمایا:۔
یہ بات نہیں ۔ خدا تعالیٰ کسی قوم پر یا کسی خاص شخص پر ظلم نہیں کرتا۔ جب انسان خود کوئی گناہ کرتاہے تو اس وقت اس کی تادیب کے لیے خدا تعالیٰ اس پر مصیبتیں نازل فرماتاہے ۔ بہادر شاہ سے اور اُس کے چند پہلے بزرگوں سے چونکہ بہت کچھ خطائیں سرزد ہوئیں ۔ خدا تعالیٰ نے ان کو اس بات کے لائق نہ دیکھا کہ وہ حکومت کر سکیں۔ تب انگریزوں کو ان پر مسلط کر دیا اگر وہ ایسے کام نہ کرتے تو خدا تعالیٰ بھی ایسا نہ کرتا۔ بلکہ میرے خیال میں خدا تعالیٰ نے بہادر شاہ پر بہت بڑا احسان کیا کیونکہ اس طرح تکلیفیں برداشت کرکے اس کے گناہ معاف ہوگئے اور جو سلوک انگریزوں نے کیا وہ تو فاتح قومیں کیا ہی کرتی ہیں۔ اگر بہادرشاہ فتحیاب ہوجاتاتو کیا وہ ایسانہ کرتا؟
معالج کیلئے ضروری صفات:۔
ایک صاحب گھر میں آئے ۔ طب کا ذکر شروع ہوا۔ فرمایا کہ :۔
طبیب میں علاوہ علم کے جو اس کے پیشہ کے متعلق ہے ایک صفت نیکی اور تقویٰ بھی ہونی چاہیئے ورنہ اس کے بغیر کچھ کام نہیں چلتا۔ ہمارے پچھلے لوگوں میں اس کا خیال تھا اور لکھتے ہیں کہ جب نبض پر ہاتھ رکھے تو یہ بھی کہے سُبْحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ( البقرۃ: ۳۳) یعنی اے خداوند بزرگ ہمیں کچھ علم نہیں مگر وہ جو تونے سکھایا۔
شفا محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے:۔
فرمایا:۔ دیکھو پچھلے دنوں میں مبارک احمد کو خسرہ نکلا تھا اس کو اس قدر کھجلی ہوتی تھی کہ وہ پلنگ پر کھڑا ہو جاتاتھا اور بدن کی بوٹیاں توڑتا تھا۔ جب کسی بات سے فائدہ نہ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب دُعا کرنی چاہیئے۔ میں نے دُعا کی اور دُعا سے ابھی فارغ ہی ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کچھ چھوٹے چھوٹے چوہوں جیسے جانور مبارک احمد کو کاٹ رہے ہیں۔ ایک شخص نے کہ اکہ ان کو چادر میں باندھ کر باہر پھینک دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔ جب میں نے بیداری میں دیکھا تو مبارک احمد کو بالکل آرام ہوگیاتھا۔ اسی طرح دستِ شفاجو مشہور ہوتے ہیں۔ اس میں کیا
ہوتا ہے وہی خدا تعالیٰ کا فضل اور کچھ نہیں۔
قبولیت دُعا کا ایک طریق:۔ فرمایا کہ :۔
دُعا میں بعض دفعہ قبولیت نہیں پائی جاتی تو ایسے وقت اس طرح سے بھی دُعا قبول ہو جاتی ہے کہ ایک شخص بزرگ سے دُعا منگوائیں اور خدا تعالیٰ سے دُعا مانگیں کہ وہ اس مرد بزرگ کی دعائوں کو سنے ۔ اور بار ہا دیکھا گیا ہے کہ اس طرح دُعا قبول ہو جاتی ہے۔ ہمارے ساتھ بھی بعض دفعہ ایسا واقعہ ہواہے اور پچھلے بزرگوں میں بھی دیکھا جاتاہے ۔ جیسا کہ باوا غلام فریدؒ ایک دفعہ بیمار ہوئے اور دُعا کی مگر کچھ بھی فائدہ نظر نہ آیا۔ تب آپ نے اپنے ایک شاگرد کو جو