ایسا ہی سمجھتی ہیں جیسا کہ محلہ کی اور عورتوں سے جھگڑا ۔ حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی خدمت اور رضاجوئی ایک بہت بڑا فرض مقرر کیا ہے یہاں تک کہ حکم ہے کہ اگر والدین کسی لڑکے کو مجبور کریں کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دیدے تو اس کے لڑکے کو چاہئے کہ وہ طلاق دیدے ۔ پس جبکہ ایک عورت کی ساس اور سُسر کے کہنے پر اس کو طلاق مل سکتی ہے تو اور کونسی بات رہ گئی ہے ۔ اس لیے ہر عورت کو چاہیے کہ ہر وقت اپنے خاوند اور اس کے والدین کی خدمت میں لگی رہے اور دیکھو کہ عورت جو کہ اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے تو اس کا کچھ بدلہ بھی پاتی ہے۔ اگر وہ اس کی خدمت کرتی ہے تو وہ اس کی پرورش کرتاہے مگر والدین تو اپنے بچہ سے کچھ نہیں لیتے وہ تو اس کے پیدا ہونے سے لے کر اس کی جوانی تک اس کی خبر گیری کرتے ہیں اور بلا کسی اجر کے اس کی خدمت کرتے ہیں اور جب وہ جوان ہوتاہے تو اس کا بیاہ کرتے ہیں اور اس کی آئندہ بہبودی کے لیے تجاویز سوچتے اور اس پر عمل کرتے ہیں اور پھر جب وہ کسی کام پر لگتا ہے اور اپنا بوجھ آپ اُٹھانے اور آئندہ زمانہ کے لیے کسی کام کرنے کے قابل ہو جاتا ہے تو کسی خیال سے اس کی بیوی اس کو اپنے ماں باپ سے جُدا کرنا چاہتی ہے یا کسی ذرا سی بات پر سب وشتم پر اُتر آتی ہے اور یہ ایک ایسا ناپسند فعل ہے جس کو خدا تعالیٰ اور مخلوق دونو ناپسند کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے انسان پر دو ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔ ایک حقوق اللہ اور ایک حقوق العباد ۔ پھر اس کے دو حصے کئے ہیں یعنی اول تو ماں باپ کی اطاعت اور فرماں برداری اور پھر دوسری مخلوق الٰہی کی بہبودی کا خیال ۔ اور اسی طرح ایک عورت پر اپنے ماں باپ اور خاوند اور ساس سُسر کی خدمت اور اطاعت۔ پس کیا بد قسمت ہے جو ان لوگوں کی خدمت نہ کر کے حقوق عباد اور حقوق اللہ دونو کی بجا آوری سے منہ موڑتی ہے۔ کسی نام سے بُری فال لینا :۔ کسی لڑکی کا نام جنت تھا ۔ کسی شخص نے کہا کہ یہ نام اچھا نہیں کیونکہ بعض اوقات انسان آواز مارتا ہے کہ جنت گھر میں ہے؟ اور اگر وہ نہ ہوتو گویا اس سے ظاہر ہے کہ دوزخ ہی ہے ۔ یا کسی کا نام برکت ہو اور یہ کہا جائے کہ گھر میں برکت نہیں تو گویا نحوست ہوئی۔ فرمایا:۔ یہ بات نہیں ہے ۔ نام کے رکھنے سے کوئی ہرج نہیں ہوتا اور اگر کوئی کہے کہ برکت اندر نہیں ہے تو اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وہ انسان اندر نہیں ہے نہ یہ کہ برکت نہیں یا اگر کہنے کہ جنت نہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ جنت نہیں اور دوزخ ہے بلکہ یہ کہ وہ انسان اند رنہیں جس کا نام جنت ہے۔ کسی اور نے کہا کہ حدیث میں بھی حرمت آئی ہے۔ فرمایا کہ :۔ میں ایسی حدیثوں کو ٹھیک نہیں جانتا اور ایسی حدیثوں سے اسلام پر اعتراض ہوتاہے کیونکہ خداتعالیٰ کے بتائے ہوئے نام عبداللہ ، عبدالرحیم اور عبدالرحمن جو ہیں ان پر بھی بات لگ سکتی ہے ۔ کیونکہ جب ایک انسان کہتاہے کہ عبدالرحمن اندر نہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں ہو سکتا کہ عبدالشیطان اندر ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ شخص جس کا نام نیک فال کے طور پر رکھا جاتا ہے تا وہ شخص بھی اس نام کے مطابق ہو۔ بہادرشاہ ظفر سے انگریزوں کا سلوک :۔