نے مسیح موعود کو سلام کہا ہے اور وصیت کی ہے کہ مسیح موعود کو میرا سلام کہہ دینا۔ اب اگر آنے والا مسیح وہی ہے جو آسمان پر نبیوں کے درمیان موجود ہے تووہ تو خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوکر دُنیا میں آئے گا۔ چاہیئے تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام لے کر مسلمانوں کے پاس آتا نہ یہ کہ جب وہ یہاں آوے تو اس جہان کے لوگ اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچائیں۔ یہ تو وہی مثل ہوئی کہ ’’ گھر سے میں آئوں اور خبریں تم سنائو‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سلام پیغام صاف بتلاتا ہے کہ وہ اُمت میں سے پیدا ہونے والا ایک شخص ہے جس کی ملاقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں ہوئی ۲؎
بلاتاریخ۱؎
عورتوں کیلئے ضروری نصائح
(رقم فرمودہ حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد)
ایک لڑکی کی اس کی ساس کے ساتھ اچھی طرح نہیں بنتی تھی۔ لڑکی نے برسبیل شکایت اور گلہ کچھ عورتوں کے سامنے کہا کہ بُرا مقام ہے جس میں میری ساس وغیرہ رہتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کو بہت بُرا منایا کہ :۔
شہر تو کوئی بُرا ہوتا ہی نہیں ۔ اگر کسی شہر کو بُرا کہا جائے تو اس سے مراد اس کے شہر والے ہوتے ہیں۔ پس نہایت قابل افسوس ہے اس عورت کی حالت جو ایسا فقرہ اپنی زبان پر لاتی ہے یا اور اس طرح اپنے خاوند اور اس کے والدین کی بُرائی کرتی ہے ۔
اور اس کے بعد اس عورت کو بہت سمجھایا اور کہا کہ :۔
خدا تعالیٰ ایسی باتیں پسند نہیں کرتا۔ یہ مرض عورتوں میں بہت کثرت سے ہوا کرتاہے کہ وہ ذرا سی بات پر بگڑ کر اپنے خاوند کو بہت کچھ بھلا بُر اکہتی ہیں بلکہ اپنی ساس اور سُسر کو بھی سخت الفاظ سے یاد کرتی ہیں۔ حالانکہ وہ اس کے خاوند کے بھی قابلِ عزت بزرگ ہیں۔ وہ اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیتی ہیں اور ان سے لڑنا وہ