۱۴اپریل ۱۹۰۶ئ :۔
طوی مشاہدات:۔ فرمایا: خد ا تعالیٰ اپنے وجود کو آپ دوبارہ ثابت کرنا چاہتاہے جیسا کہ کوہ طُور پر تجلیاتِ الٰہیہ کا نمونہ دکھایا گیا تھا۔ ایسا ہی اب بھی دکھایا جائے گا۔ جس طرح فرعون کے پاس رسُول بھیجا گیا تھاوہی الفاظ ہم کو بھی الہام ہوئے ہیں کہ تُو بھی ایک رسول ہے جیسا کہ فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا گیا تھا۔ بجز طُوری مشاہدات کے اب دُنیا کے لوگ سیدھے نہیں ہو سکتے ۔۲؎
۱۷؍اپریل ۱۹۰۶ئ
معجزات کے بارہ میں سنتِ الٰہی :۔ فرمایا: بعض لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اُن کے مانگے ہوئے معجزات ان کو دکھائے جائیں۔ یہ دُرست نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سُنت نہیں ۔ جس حد تک خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت تشفی دینے کا ہے۔ اگر اس حد تک تشفی نہ ہو جائے تو پھر مواخذہ کے لائق انسان ہو جاتاہے ۔
جماعت میں داخل ہونیوالوں کی قبولیت:۔ فرمایا:
خدا تعالیٰ نے ہمیں فرمایا ہے کہ جو لوگ اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ اُن کو قبول کرے گا۔ باقی جو لوگ اپنی ضد پر قائم رہتے ہیں اور شقاوت کی راہ سے انکار کرتے ہیں وہ راستباز نہیں ٹھہرسکتے۔
دینی عقل تقویٰ سے تیز ہوتی ہے:فرمایا:۔
دینی عقل اورہے اور دُنیوی عقل اور ہے ۔ جو لوگ دُنیوی عقل میں ریاضت کرنے والے ہیں وہ یہ دعویٰ