فرمایا:۔ ہمارا یہ مذہب نہیں کہ صرف تفریح کے واسطے یا سیر و تماشا کے واسطے کوئی سفر کریں۔ ہاں جس دینی کاروبار میں ہم مصروف ہیں اگر اس کی ضرورتوں میں ہم کو کوئی سفر پیش آجاوے۔ اور خدمت دین کے واسطے کشمیر جانا بھی ضروری پڑ جاوے تو پھر ہم تیار ہیں کہ اس ملک کو جاویں۔ آریوں کیلئے قابل توجہ :۔ رسالہ جدیدہ ’’قادیان کے آریہ او رہم ‘‘ کا تذکرہ تھا۔ فرمایا کہ :۔ سُنا گیا تھا کہ مخاطب آریوں میں سے ایک کہتا تھا کہ ہم بذریعہ اشتہار شبھ چنتک کے مضمون کی تردید کر دیتے ہیں حضرت صاحب رسالہ نہ لکھیں۔ مگر ہم نے کہا کہ اب رسالہ کا نکلنا نہیں رُک سکتا۔ ان کو چاہیئے کہ بعد رسالہ کے نکلنے کے تصدیق یا تکذیب میں قسم کھالیں۔ تمام ہندوستان کے آریوں کو چاہیے کہ اس امر پر غور کریں۔ ان کے واسطے اسلام پر حملہ کرنا حرام ہے جب تک کہ اس بات کا فیصلہ نہ کریں۔ اُن کو چاہیئے کہ ایک ڈیپوٹیشن بنا کر ملا وامل اور شرمپت کے پاس آویں اور ان کو حلف دے کر پوچھیں کہ کیا وہ ہمارے نشانات کے گواہ ہیں یا کہ نہیں ہیں؟ ہماری یہ ایک چھوٹی سی کتاب ہے مگر اس نے آریوں کا فیصلہ کر دیا ہے۔ تمام ادیانِ باطلہ پر حُجت:َ۔ فرمایا:۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ سے تمام ادیان باطلہ پر حجت قائم کر دی ہے اور ہر ایک مذہب کے متعلق ایک ایسی بات پیش کی گئی ہے جو قطعاً لاجواب ہے۔ آریوں کے واسطے اول تو اسی کتاب کا مضمون ہے کہ خود آریہ ہمارے نشانات کے پورا ہونے کے گواہ ہیں جس سے وہ کبھی انکار نہیں کر سکتے۔ پھر ان کا مسئلہ نیوگ اندر ہی اندر ان کے دلوں کو ملزم اور خوار کر رہا ہے۔ پھر اُن کا یہ مذہب کہ خدا تعالیٰ کسی کا خالق نہیں وغیرہ ایسی باتیں ظاہر ہوئی ہیں کہ کوئی آریہ جواب نہیں دے سکتا۔ سکھوں کی ہدایت کے واسطے خدا تعالیٰ نے چولا صاحب ظاہر کر دیا ہے جس پر صاف لکھا ہے کہ اسلام کے سوائے کوئی مذہب مقبول نہیں اور اس سے ثابت ہے کہ باوا نانک کا مذہب کیا تھا۔ عیسائیوں کے خدا کی خود قبر ہی نکل آئی ہے اور ہمارے مخالف مسلمانوں پر بھی حجت قائم ہے کیونکہ قرآن شریف حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کا قائل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو مرُدوں میں لکھا ہے۱؎ مسیح موعود ؑ کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام :۔ فرمایا:۔ یہ عجب بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم