پیش گوئی ہے ۔ پس صدقہ و خیرات سے توبہ کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجُوع کرنے سے وعید کی پیش گوئی بھی ٹل سکتی ہے۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس بات کے قائل ہیں کہ صدقات سے بَلا ٹل جاتی ہے۔ ہندو بھی مصیبت کے وقت صدقہ خیرات دیتے ہیں۔ اگر بَلا ایسی شئے ہے کہ ٹل نہیں سکتی تو پھر صدقہ خیرات سب عبث ہو جاتے ہیں۔
آتھم اور لیکھرام کا رویہ:۔
آتھم اور لیکھرام میں بھی فرق تھا کہ پیش گوئی کو سُن کر آتھم خوف کھا گیا ۔ اسی وقت بھری مجلس میں کانوں کو ہاتھ لگا کر کہنے لگا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی گالی نہیں دی۔ اور تمام شوخیاں چھوڑ دیں۔ اس واسطے اس کو چند روز اور مہلت مل گئی۔ لیکن برخلاف اس کے لیکھرام نے شوخی اختیار کی اور روز بروز شوخی میں بڑھتا گیا۔ پس اس کو میعاد کے دنوں کی بھی پوری مہلت نہ دی گئی۔ اگر وہ بھی آتھم کی طرح خاموش ہو جاتا اور خدا سے ڈرتا تو اس کے ایام میں بھی تاخیر دی جاتی ۔ ایسا ہی احمد بیگ نے چونکہ کوئی نمونہ نہ دیکھا ہوا تھا۔ اُس نے خوف نہ کھایا اور جلد ہلاک ہوا ور پچھلے خوفزدہ ہوگئے اور مہلت حاصل کی۔
یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی نبی کو سب نے مان لیاہو۔ اختلاف تو ضرور ہوتا ہی ہے ۔ کچھ نہ کچھ مخالفت ضرور باقی رہتی ہے ۔ ہر نبی کے وقت میں ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے۔
قرآن مشکل نہیں ہے:۔ فرمایا:۔
بعض نادان لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم قرآن شریف کو نہیں سمجھ سکتے اس کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیئے کہ یہ بہت مشکل ہے ۔ یہ ان کی غلطی ہے ۔ قرآن شریف نے اعتقادی مسائل کو ایسی فصاحت کے ساتھ سمجھایا ہے جو بے مثل اور بے مانند ہے اور اس کے دلائل دلوں پر اثر ڈالتے ہیں یہ قرآن ایسا بلیغ اور فصیح ہے کہ عرب کے بادیہ نشینوں کو جو بالکل اَن پڑھ تھے سمجھا دیا تھا تو پھر اب کیونکر اس کو نہیں سمجھ سکتے۔۱؎
قبل از نماز عصر
تفریحی سفر:۔
ریاست جموں کے ایک معزز ہندو اہلکار ساکن قادیان حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر تھے۔ اثنائے گفتگو میں انہوں نے کشمیر کی آب و ہوا کی تعریف کرتے ہوئے عرض کیا کہ جناب بھی کبھی کشمیر کی سیر کے واسطے تشریف لاویں۔