کے کرتا ہے ان کے واسطے جزا کا وقت آخرت میں رکھا گیا ہے ۔ اس دنیا میں عذاب جب آتا ہے وہ انبیاء کی تکذیب کی وجہ سے زیادہ تر آتاہے۔ اگر فرعون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بد سلوکی نہ کرتا تو چند دن اور دنیا میں سلطنت کر لیتا۔ معمولی گناہوں کے واسطے محاسبہ اور مؤاخذہ کا دن قیامت ہے۔ لیکن ہو گناہ جس پر خدا تعالیٰ بڑی غیرت دکھلاتا ہے وہ اس کے فرستادوں کی تکذیب اور اُن کے ساتھ شوخی سے پیش آتا ہے جبکہ شوخی حد سے بڑھ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے پاک نبیوں کو دُکھ دیا جاتاہے اور اس کے برخلاف ظلم اور شرارت اور بدمعاشی سے کام لیا جاتا ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو اسی دُنیا میں عذاب کا مزا چکھاتاہے۔ اگر یہ لوگ انکسار اختیار کرتے تو ہلاک نہ ہوتے ۔ حضرت عیسیٰ نے اپنے مخالفوں کو کہا تھا کہ تم کنجروں سے برتر ہو کیونکہ وہ گناہ کرتے ہیں پر اپنے آپ کو گناہگار سمجھ کر انکسار اختیار کرتے ہیں اور تم گناہ کرتے ہو اور اس پر خوش ہوتے ہو اور کارِ ثواب جانتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتاہے ۔ مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ( النساء : ۱۴۸)یعنی اگر تم شکریہ ادا کرو اور ایمان لائو تو خدا نے تمہیں عذاب کرکے کیا لینا ہے ۔ یہ تمہارے بد اعمال ہی تم کو عذاب میں گراتے ہیں۔
امریکہ میں تبلیغ :۔
یہ اعتراض ناجائز ہے کہ امریکہ میں آپ کی تبلیغ نہیں پہنچی پھر وہاں عذاب کیوں آیا۔ ہماری تبلیغ بہت ہو چکی ہے ۔ ابتداء میں میںَ نے ایک اشتہار سولہ ہزار
چھپوا کر یورپ امریکہ میں روانہ کیا تھا اور اسی اشتہار کو پڑھ کر امریکہ سے محمد ویب نے خط و کتابت شروع کی تھی جبکہ وہ مسلمان بھی نہ ہوا تھا۔ اس کے بعد ڈوئی کے متعلق پیشگوئی کے اشتہارات امریکہ میں کثرت سے تقسیم ہوئے اور امریکہ کی بہت سی اخباروں میں ہماری تصویر اور ہمارے حالات چھپے جس کو لاکھوں آدمیوں نے پڑھا اور ان کے درمیان اس سلسلہ کی تبلیغ ہو چکی ہے ۔
عذاب کے متعلق سنتِ الٰہی :۔
علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ قدیم سے سنت اللہ اسی طور پر جاری ہے کہ جب عذاب الٰہی آتا ہے تو بدوں کے ساتھ جو نیک ملے جلے ہوتے ہیں۔ اُن میں سے بھی بعض کو لپیٹتا ہے ۔ پھر اُن کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوتاہے۔ دیکھو حضرت موسیٰؑ کے وقت میں پلوٹھے ہلاک ہوئے تھے تو پلوٹھوں کا اس میں کیا قصور تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں قحط پڑا۔ تو ظاہر ہے کہ اس کا اثر سب پر ہوا تھا نہ یہ کہ صرف بعض پر ہوا ہو۔ یہ لوگ سُنت اللہ سے بے خبر ہیں جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں۔
صدقات اور توبہ سے بَلا ٹل جاتی ہے۔ فرمایا:۔
تمام مذاہب کے درمیان یہ امر متفق ہے کہ صدقہ خیرات کے ساتھ بَلا ٹل جاتی ہے اور بَلا کے آنے کے متعلق اگر خدا تعالیٰ اپنے سے خبر دے تو وہ وعید کی