نگران رہا اورجب تو نے مجھے وفات دے دی اس کے بعد تو خود ان کا نگران تھا ( مجھے کچھ خبر نہیں ) اور تو ہر بات کو دیکھتا ہے ۔‘‘ اب اس جگہ سوچنے کے قابل یہ بات ہے کہ قیامت کا دن ہوگا اور سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑے ہوں گے اوروہ گھڑی ہوگی جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصَّادِقِیْنَ صِدْقُھُمْ ( المائدہ :۱۲۰) وہ دن ہوگا جبکہ سچ بولنے والوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ اچھا تو ایسے وقت میں حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کو یہ کہیں گے کہ میں جب تک دُنیا میں تھا تب تو اُن کو وحدانیت کا وعظ کرتا تھا۔ بعد کی خبر نہیں انہیں کیا ہوگیا۔ قطع نظر اس بات کے کہ وہ اس وقت زمین میں مدفون ہیں یا کہیں آسمان پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس جگہ یہ امر سب سے زیاہ قابل غور ہے کہ اگر وہ قیامت سے پہلے دُنیا میں آئیں گے اور چالیس سال تک رہیں گے اور عیسائیوں کو انہیں اور ان کی ماں کو خدا بنانے کے سبب خوب سزا بھی دیں گے اور پھر ان کی اصلاح بھی کریں گے اور ماننے والوں کو مسلمان بنائیں گے تو پھر قیامت کے دن اُن کا جواب یہ کیوں ہونا چاہیئے کہ مجھے تو کچھ خبر نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا اور کیا نہ ہوا بلکہ انہیں تو یہ جواب دینا چاہیئے کہ اے باری تعالیٰ میں نے تو ان کے ایسے عقیدے کے سبب ان کو خوب سزائیں دی ہیں اور ان کی صلیب کو توڑا ہے اور چالیس سال تک اُن کی خوب خبر لی ہے۔ سو دیکھنا چاہیئے کہ اگر مسیح دوبارہ دنیا میں آوے گا تو کیا اس کا یہ جواب جو قرآن شریف میں درج ہے سچا ہوگا اور اگر ان ملانوں کی بات درست مان لی جاوے تو روز قیامت حضرت عیسیٰ کو ایسا جواب دینے سے کیا انعام ملے گا؟ نادان یہ بھی نہیں جانتے کہ ایسی باتیں بنا کر وہ ایک خدا کے نبی کو نعوذ باللہ جھوٹ بولنے والا قرار دے رہے ہیں اور پھر جھوٹ بھی قیامت کے دن اور پھر وہ بھی خدا تعالیٰ کے دربار میں نعوذ باللہ من ذالک ۔ خشیت الٰہی ایمان سے پیدا ہوتی ہے :۔ ذکر تھا کہ باوجود اس قدر وبااور تکالیف کے لوگوں میں شوخی بڑھی ہوئی ہے اور کچھ پروا نہیں کرتے ۔ فرمایا:۔ خدا تعالیٰ پر پورا ایمان ہوتو انسان کے دل میں خوف اور خشیت بھی ہوتی ہے ۔ جیسے ایمان کم ہوتا جاتا ہے ویسے ہی خشیت بھی کم ہوتی جاتی ہے۔ دنیا میں عذاب الٰہی کا باعث شوخی اور تکذیب ہے:۔ فرمایا: میرا مذہب سچائی کے ساتھ اس بات پر قائم ہے کہ جس قدر لوگ نوحؑ اور لوطؑ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر پیغمبروں کے زمانہ میں ہلاک ہوئے اگر وہ انبیاء کے ساتھ شوخی سے پیش نہ آتے اور ان کی تکذیب نہ کرتے تو معمولی طور پر زندگی بسر کرتے ۔ دنیا میں جو گناہ فسق و فجور