آپ کو نجاست کے بچائے رکھتا ہے۔
عاجز۲؎ کو مخاطب کرکے حضور نے فرمایاکہ :۔
ان باتوں کو عام اطلاع کے واسطے اخبار میں شائع کر دیں۳؎
وفات مسیح علیہ السلام :۔
مخالفین کے اس مذہب کا ذکر تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر قیامت سے پہلے دُنیا میں آئیں گے اور چالیس سا ل تک اس زمین پر رہیں گے اور عیسائیوں کی خوب خبر لیں گے اور اُن کو بتائیں گے کہ تمہارا دین باطل ہے اور کسرصلیب کریں گے اور پھر اس زمین پر فوت ہو جائیں گے ۔
حضرت نے فرمایا کہ :۔
اس عقیدہ کو قرآن شریف کی اس آیت کے آگے پیش کرنا چاہیئے کہ :۔
وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ئَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّيَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ۔ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِيْ۔ بِحَقٍ۔ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ۔ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِيْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِکَ۔ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔ مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا للّٰہَ رَبِیْ وَرَبَّکُمْ ۔ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْداًمَّا دُمْتُُ فِیْھِمْ ۔ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِيْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ ۔ وَاَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَيْ ئٍ شَھِیْدٌ۔ (المائدہ:۱۱۷۔۱۱۸)
’’ یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ کو کہیں گے کہ اے عیسیٰ بن مریم کیا تو نے لوگوں کو یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کرکے مانو اور اللہ کو چھوڑدو؟ تو حضرت عیسیٰ جواب دیں گے کہ یا اللہ تو پاک ہے مجھے کب لائق تھا کہ میں ایسا کلمہ بولتا جو حق نہیں ہے ۔ اگر میں کہتا تو تجھے معلوم ہوتا۔ تو جانتا ہے کہ جو کچھ کہ میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا کہ تیرے نفس میں کیا ہے تو علام الغیوب ہے ۔ میں نے تو انہیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہا جو تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا رب ہے اور جب تک کہ میں ان میں رہا ۔ میں اُن کا