پوتا ہے اس وجہ سے وہ ہمارا رشتہ دار ہے سو واضح ہو کہ ہم ایسے رشتوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔ ہمارے رشتے سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہیں۔ عزیز احمد کا باپ خود ہم سے برگشتہ ہے اور ہم اس کو اپنا بیٹا نہیں سمجھتے تو پھر عزیز احمد کا پوتا ہونا کیسا؟ عزیز احمد کو چاہیئے تھا کہ اس معاملہ میں اول ہم سے مشورہ کرتا یا اس مثال کو دیکھتاجو پہلے میڈیکل کالج لاہور میں قائم ہو چکی تھی کہ جب طلباء نے لاہور میں اپنے پروفیسروں کی مخالفت میں سٹرائیک کیا تھا تو جو لڑکے اس جماعت میں شامل تھے ان کو میں نے حکم دیا تھا کہ وہ اس مخالفت میں شامل نہ ہوں اور اپنے استادوں سے معافی مانگ کر فوراً کالج میں داخل ہو جاویں۔ چنانچہ انہوں نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی اور اپنے کالج میں داخل ہو کر ایک ایسی نیک مثال قائم کی کہ دوسرے طلباء بھی فوراً داخل ہوگئے ۔ عزیز احمد کو اس واقعہ کی خبر ہوگئی کیونکہ اخبار میں چھپ چکا تھا۔ اور اگر خبر نہ ہوتی تو اس کے واسطے
ضروری تھا کہ اول مجھ سے مشورہ کرتا یا اپنے ساتھیوں کے مشورہ پر چلتا۔ اس کا علی گڑھ میں جانا بھی اس کے باپ کے مشورہ اور حکم سے تھا نہ کہ ہمارا اس میں کوئی حکم تھا۔ ایسا ہی مخالفت استادان میں شمولیت ہمارے کسی تعلق کی وجہ سے نہیں اور اسی وجہ سے اس کو خارج از بیعت کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ اپنے فعل سے توبہ کرکے اپنے استادوں سے معافی نہ مانگے ۱؎ ہاں دوسرے طلباء مولوی غلام محمد صاحب وغیرہ نے علی گڑھ جانے سے پہلے ہم سے مشورہ لیا تھا اور ہم نے یہی مشورہ دیا تھا کہ وہاں کے لڑکوں کی صحبت سے بچتے رہیں اورکسی بدی میں شامل نہ ہوں تو ہرج نہیں کہ وہاں جائیں۔ انسان ضرورتاً پاخانہ میں بھی جاتاہے مگر اپنے