سے کام نہیں لیتے ورنہ ایسے شریر لوگوں کے شر سے محفوظ رہتے جو ہماری باتون کو تراش خراش کر افتراء کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
کتاب حقیقۃ الوحی کے لئے قسم : ۔
فرمایا:۔
کتاب حقیقۃ الوحی میں ہم نے تمام قسم کی باتوں کو مختصر طور پر جمع کردیا ہے اور اس میں قسم دی ہے کہ لوگ کم از کم اول سے آخر تک اس کو پڑھ لیں۔ دوسرے کی قسم کا نہ ماننا بھی تقویٰ کے برخلاف ہے۔ آنحضرت ﷺ نے بھی دوسرے کی قسم پوری ہونے دی تھی اور حضرت عیٰسیؑ نے بھی دوسرے آدمی کو قسم کو پورا کیا تھا۔ غرض ہم ایک نیک کام کے واسطے قسم دیتے ہیں کہ وہ بلا سوچے سمجھے گالیاں نہ دیں اور مخالفت نہ کریں کم از کم ہمارے دلائل کو ایک دفعہ بغور مطالعہ کریں خواہ تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھیں۔ پھر ان کو معلوم ہوجائے گا کہ حق کس بات میں ہے۔
(بوقت ظہر)
طلباء کی سڑائیک :۔
علی گڑھ کالج کے طالب علم مولوی غلام محمد صاحب نے وہاں کے طلباء کی سٹرائیک اور اپنے استادوں کی مخالفت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اس جماعت ( فرقہ احمدیہ) کا کوئی لڑکا اس سٹرائیک میں شامل نہیں ہوا۔ میاں محمد دین ۔ عبدالغفار خاں وغیرہ سب علیحدہ رہے لیکن عزیز احدم ان طلباء کے ساتھ شریک رہا اور باوجود ہمارے سمجھانے کے باز نہ آیا اور چونکہ بعض اخباروں میں اس قسم کے مضمون نکلے تھے کہ مسیح موعود کا پوتا علی گڑھ کالج میں ہے اس وجہ سے عام طور پر عزیز احمد کا رشتہ حضور کے ساتھ سب کو معلوم ہونے کے سبب وہاں کے اراکین نے اس امر پر تعجب ظاہر کیا کہ عزیز احمد اس مفسدہ میں ایسا حصہ لیتا ہے ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
عزیز احمد نے اپنے استادوں اور افسروں کی مخالفت میں مفسد طلباء کے ساتھ شمولیت کا جو طریق اختیار کیا ہے یہ ہماری تعلیم اور ہمارے مشورہ کے بالکل مخالف ہے لہٰذا وہ اس دن سے وہ اس بغاوت میں شریک ہے ہماری جماعت سے علیحدہ اور ہماری بیعت سے خارج کیا جاتاہے ہم ان لڑکوں پر خوش ہیں جنہوں نے اس موقعہ پر ہماری تعلیم پر عمل کیا۔ بہت سے لوگ بیعت میں آکر داخل ہوجاتے لیکن جب وہ شرائط بیعت پر عمل نہیں کرتے تو خود بخود اس سے خارج ہو جاتے ہیں۔ یہی حال عزیز احمد کا تھا ۔ اس میں خصوصیت نہ تھی اور یہ امر کہ ہمارا وہ