لللّٰہ بغض :۔ ہم بھی بعض دفعہ کسی پر ناراض ہوتے ہیں۔ مگر ہماری ناراضگی دین کے واسطے اور اللہ کے لیے ہے جس میں نفسانی جذبات کی ملونی نہیں اور دنیوی خواہشات کا کوئی حصہ نہیں ہمارا بغض اگر کسی کے ساتھ ہے تو وہ خداتعالیٰ کے واسطے ہے اور اس واسطے وہ بغض ہمارا نہیں بلکہ خود خدا تعالیٰ کا ہی ہے کیوں کہ اس میں کوئی ہماری نفسانی یا دنیوی غرض نہیں۔ ہم کسی سے کچھ لینا نہیں چاہتے نہ کسی سے کوئی خواہش رکھتے ہیں۔ جوش نفسانی اور للّٰہی جوش میں فرق کے واسطے حضرت علی ؓ کے ایک واقعہ سے سبق حاصل کرو۔ حضرت علیؓ کا ایک سبق آموز واقعہ :۔ لکھا ہے کہ حضرت علیؓ کا ایک کافر پہلوان کے ساتھ جنگ شروع ہوا۔ ابار بار آپ اس کو قابو کرتے تھے وہ قابو سے نکل جاتا تھا۔آخر اس کو پکڑ کر اچھی طرح سے جب قابو کیا اور اس کی چھاتی پر سوار ہوگئے اور قریب تھا کہ خنجر کے ساتھ اس کا کام تمام کردیتے کہ اس نے نیچے سے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ جب اس نے ایسا فعل کیا تو حضرت علیؓ اس کی چھاتی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو چھوڑ دیا اور الگ ہوگئے۔ اس پر اس نے تعجب کیا اور حضرت علیؓ سے پوچھا کہ آپ نے اس قدر تکلیف کے ساتھ پکڑا۔ اور میں آپ کا جانی دشمن ہوں اور خون کا پیاسا ہوں پھر باوجود ایسا قابو پا چکنے کے آپ نے مجھے اب چھوڑ دیا۔ یہ کیا بات ہے ؟حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ بات یہ ہے کہ ہماری تمہارے ساتھ کوئی ذاتی عداوت نہیں۔ چونکہ تم دین کی مخالفت کے سبب مسلمانوں کو دکھ دیتے ہو اس واسطے تم واجب القتل ہو اور میں محض دینی ضرورت کے سبب تم کو پکڑتا تھا۔ لیکن جب تم نے میرے منہ پر تھوک دیا اور اس میں مجھے غصہ آیا تو میں نے خیال کیا کہ یہ اب نفسانی بات درمیان میں آگئی ہے اب اس کو کچھ کہنا جائز نہیں تاکہ ہمارا کوئی کام نفس کے واسطے نہ ہو۔ جو ہو سب اللہ تعالیٰ کے واسطے ہو ۔ جب میری اس حالت میں تغیر آئے گا اور یہ غصہ دور ہوجائے گا تو پھر وہی سلوک تمہارے ساتھ کیا جائے گا۔اس بات کو سن کر کافر کے دل پر ایسا اثر ہوا کہ تمام کفر اس کے دل سے خارج ہوگیا اور اس نے سوچا کہ اس سے بڑھ کر اور کون سا دین دنیا میں اچھا ہوسکتا ہے جس کی تعلیم کے اثر سے انسان ایسا پاک نفس بن جاتا ہے۔ پس اس نے اسی وقت توبہ کی اور مسلمان ہوگیا۔ غرض انسانوں کو چاہیئے کہ دنیوی کدورتوں کے سبب باہم رنجش پیدا نہ کریں اور پھر یہ دن تو وبا اور زلازل اور قہر الٰہی کے دن ہیں۔ ان میں خدا تعالیٰ کے خوف سے لرزاں رہنا چاہیئے۔ مولویوں کے پیروکار:۔ ایک شخص نے ذکر کیا کہ بعض مولوی قسماقسم کے افتراء کر کے لوگوں کو بہکاتے ہیں۔ حضرت نے فرمایا:۔ ان کے ہاتھ سوائے افتراء پردازی کے اور کیا ہے؟ لیکن جو لوگ ان کے پھندے میں پھنس جاتے ہیں وہ خود کمزور اور ضعیف ہیں اور دنیا داری میں ایسے پھنسے ہوئے ہیںکہ دین کو ان کو ہرگز کوئی خبر ہی نہیں۔ وہ خود سوچ فکر