ڈاکٹر حکیم نور محمد صاحب ‘حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسیٰ ‘بابو غلام محمد صاحب لاہور سے آکر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت اقدس ملاقات کے واسطے قریب دس بجے صبح کے مسجد مبارک میں تشریف لائے اور قریب دو گھنٹہ کے تشریف فرما رہے۔ چندآدمیوں نے بیعت کی اور مختلف مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔ دو ایک دوستوں کے درمیان کسی دنیوی امر پر اختلاف اور باہمی رنج کا ذکرتھا۔ اس پر حضرت نے فرمایا کہ:۔
دیکھو ! آج کل موسم کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور ایک غیر معمولی تغیر زمانے کی حالت میں نظر آتا ہے آسمان ہر وقت غبار ناک رہتا ہے گویا کہ وہ بھی اداس ہو رہا ہے۔ چاہیئے کہ آپس میں جلد صفائی کرلیں۔ معلوم نہیں کہ کس کی موت آجائے۔ میں تو یہ بھی سنتا نہیں چاہتا کہ اختلاف کی کیا باتیں ہیں۔ معلوم نہیں کہ کس کی زندگی ہے اورکون اس سال میں مرجائے گا۔
جب تک سینہ صاف نہ ہو دعا قبول نہیں ہوتی۔ اگرکسی دنیوی معاملہ میں ایک شخص کے ساتھ بھی تیرے سینہ میں بغض ہے تو تیری دعا قبول نہیں ہوسکتی ۔ اس بات کو اچھی طرح سے یاد رکھنا چاہیئے اور دنیوی معاملہ کے سبب کبھی کسی کے ساتھ بعض نہیں رکھنا چاہیئے۔ اور دنیا اور اس کا اسباب کیا ہستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تم کسی سے عداوت رکھو۔
شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے کیا عمدہ واقعہ بیان کیا ہے کہ دو شخص آپس میں سخت عداوت رکھتے تھے۔ ایسا کہ وہ اس بات کو بھی نا گوار سمجھتے تھے کہ ہر دو ایک آسمان کے نیچے ہیں۔ ان میں سے ایک قضائے کا رفوت ہوگیا ۔ اس سے دوسرے کو بہت خوشی ہوئی۔ ایک روز اس کی قبر پر گیا اور اس کو اکھاڑ ڈالا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا نازک جسم خاک آلود ہے اور کیڑے اس کو کھا رہے ہیں۔ ایسی حالت دیکھ کر دنیا کے انجام کا نظارہ اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا اور اس پر سخت رقت طاری ہوئی اور اتنا رویا کہ اس کی قبر کی مٹی کو تر کردیا اور پھر اس کی قبر کو درست کرا کر اس پر لکھوایا ؎
مکن شادمانی بمرگ کے
کہ دہرت پس ازوے نماند بسے
خدا کا حق تو انسان کو ادا کرناہی چاہیئے مگر بڑا حق برادری کا بھی ہے جس کا ادا کرنا نہایت مشکل ہے ۔ ذرا سی بات پرانسان اپن دل میں خیال کرتا ہے کہ فلاں شخص نے میرے ساتھ سخت کلامی کی ہے۔ پھر علیحدہ ہو کر اپنے دل میں اس بدظنی کو بڑھاتا رہتا ہے اور ایک رائی کے دانے کو پہاڑ بنا لیتا ہے اور اپنی بدظنی کے مطابق اس کینے کو زیادہ کرتا رہتا ہے۔یہ سب ناجائز ہیں۔