میں اُٹھتے ہیں۔ اور ہی ایسی باتوں کی تاویل کرنے پر دوڑتے ہیں۔ جن کو خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر پورا پورا یقین نہیں آتا۔ ہم تویہی جانتے ہیں۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ( البقرۃ: ۱۰۷) ایک واقعہ کا انکار صرف اپنے جیسوں کے ناقص تجربے کی بناء پر نہایت بُری بات ہے ۔
دیکھو جب تک تار برقی نہ نکلی تھی اس وقت اگر کوئی بیان کرتا کہ ایک سیکنڈ میں اتنی دور تک خبر پہنچ جاتی ہے تو کون یقین کرتا ۔ مگر اب جب مشاہدہ میں آگیا تو سب نے مان لیا۔ ویسے ہی خدا تعالیٰ کی لا انتہا قدرتوں کا احاطہ کون کر سکتاہے ۔ جب معمولی باتیں انسان کی سمجھ میں نہیں آسکتیں تو خدا تعالیٰ کے بعض افعال اگر سمجھ میں نہ آئیں تو ان کا انکار نہیں چاہیئے بلکہ سچے دل سے ایمان لانا چاہیئے ، کیونکہ جتنا کسی کو خدا تعالیٰ پر یقین ہو اتنی ہی وہ اس کی مدد کرتا ہے اور جیسی ایمان کی حالت ہو اتنا ہی اسے اسباب میں ڈالتاہے ۔ خود ہم نے خدا تعالیٰ کی ایسی قدرتوں کے نمونے دیکھے۔ دیکھو عبداللہ سنوری والا کُرتہ جس پر بغیر کسی ظاہری اسباب کے سُرخ نشان پڑگئے تھے اور ہم نے کشف میں دیکھا کہ دستخط کراتے ہوئے بارگاہِ الٰہی سے وہ چھینٹاپڑا۔ ایسا ہی دانت میں سخت درد تھا۔ طبیب نے مشورہ دیا۔ علاج دنداں اخراجِ دنداں ۔ مگر بعد ازاں الہام ہوا۔ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنَ ( الشعراء :۸۱) تو معاً وہ درد جاتا رہا۔
ایسا ہی ایک دفعہ میں سخت بیمار ہوا حتیٰ کہ سورہ یٰسین بھی تین دفعہ سُنائی گئی ۔ میرے دل میں ڈالا گیا کہ کچھ تسبیحیں پڑھ کر دریا کی ریت اور پانی بدن پر ملوں ۔ چنانچہ ایسا کرنے پر وہ بیماری جاتی رہی ۔ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان پیدا کر و تاکہ ایسے شبہات سے نجات ہو۔
(یہ خلاصہ ہے اس تقریر کا جو حضور علیہ السلام نے فرمائی)
فاتحہ خوانی اور اسقاط :۔
عرض کیاگیا کہ جب کوئی مسلمان مرجائے تو اس کے بعد جو فاتحہ خوانی کا دستور ہے ۔ اس کی شریعت میں کوئی اصل ہے یا نہیں ؟ فرمایا:
نہ حدیث میں اس کا ذکر ہے نہ قرآن شریف میں نہ سُنت میں۔
عرض کیا گیا کہ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ دُعائے مغفرت ہی ہے ؟ فرمایا:
نہ اسقاط درست نہ اس طریق سے دُعا ہے کیونکہ بدعتوں کا دروازہ کھل جاتاہے ۔ ۱؎