قاضی ظہور الدین صاحب اکملؔ نے سوال کیا کہ محرم دسویں کو جو شربت وچاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ للّٰلہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے؟ فرمایا:۔ ایسے کاموں کے لیے دن اور وقت مقرر کردینا ایک رسم وبدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔ پس اس سے پرہیز کرنا چاہیئے کیوں کہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ ابتداء میں اسی خیال سے ہو مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کرلیا ہے اس لیے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے۔ دو افراد کا جمعہ:۔ یہ مسئلہ پیش ہوا کہ دو احمدی کسی گائوں میں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑھ لیا کریں یا نہ؟ حضور نے مولو ی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کی کہ دو سے جماعت ہو جاتی ہے۔ اس لیے جمعہ بھی ہو جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا:۔ ہاں پڑھ لیا کریں۔ فقہاء نے تین آدمی لکھے ہیں۔ اگر کوئی اکیلا ہو تو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کرسکتا ہے۔ روزہ وصال:۔ ایک شخص کا سوال پیش ہوا کہ محرم کے پہلے دس دن کا روزہ رکھنا ضروری ہے یا کہ نہیں؟ فرمایا:۔ ضروری نہیں ہے چٹھ :۔ اسی شخص کا سوال پیش ہوا کہ برائے برآمدگی مراد یا سیرابی ملک یا بطور چٹھ جو لوگ ذبیحہ دیتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ:۔ جائز نہیں ہے ۔