عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اصلاح کریں:۔ دنیا میں ایک دہریت پھیل رہی ہے۔ تحصیل دنیا کے لیے ہر وقت دوڑ دھوپ میں لوگ لگے ہوئے ہیں۔ اس کے لیے مجلیس ہوتی ہیں اور شوروپکار ہے کہ یہ کرو وہ کرو مگر اسلام کی بہبودی کا کسی کو کوئی فکر نہیں۔ ایسی غفلت میں پھنسے ہوئے ہیں کہ عذاب کے سوائے ان سے غفلت رفع نہیں ہوتی۔ ہمیں خدا تعالیٰ نے صدہابار بتایا ہے کہ خدا کے عذاب کے دن نزدیک ہیں اور جب تک لوگوں کے دل سیدھے نہ ہو جاویں خدا تعالیٰ کے عذاب پیچھا نہ چھوڑیں گے۔ چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ (الرعد:۱۲) یعنی خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو درست نہ کرلیں۔ طاعون کو دفع کرنے کے لیے بیچارے چوہوں کے مارنے کے درپے ہورہے ہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ جب تک ان کے اندر کا چوہا نہ مرے گا اس وقت تک طاعون ان کا ہرگز پیچھا نہ چھوڑے گی۔ پس اپنی اصلاح کریں اور خدا تعالیٰ سے ڈریں۔ اگر یہ لوگ اپنی اصلاح کریں تو خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ ہلاک ہی کرکے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ واٰمَنْتُمْ (النساء :۱۴۸) کہ خدا تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر کرو اور ایمان لے آئو۔ ہمارے مسلمان سلاطین کا ذکر ہے کہ جب کوئی بلا آتی تھی تو بادشاہ دعا وزاری بدرگاہ رب العالمین کرتے تھے اور رعیت کو نیکیوں کی طرف رغبت دلاتے تھے۔ جب ٹیکہ لگایا جانا شروع ہوا تو میں نے کتاب کشتی نوح لکھی تھی اور اس میں میں نے ظاہر کیا تھا کہ اس ٹیکہ سے جو میں آسمانی ٹیکہ پیش کرتا ہوں بہتر ہے۔ آخر وہی بات سچی ثابت ہوئی جو ہم نے پیش کی تھی۔ شاید کسی کو کسی وقت سمجھ آجاوے۔ طاعون تو اب ہاتھ دھو کر لوگوں کے پیچھے ہو پڑی ہے۔ قادیان کے کسی شخص کا ذکر ہوا کہ فلاں جگہ طاعون ہے اور وہ وہاں بار بار جاتا رہا۔ آخر وہ طاعون میں گرفتار ہو کر مرگیا۔ حضرت اقدس نے فرمایا:۔ جب کہ ایک جگہ آگ برستی ہے تو اس جگہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟ مخالفین کا مباہلہ:۔ فرمایا:۔ اس ملک کے کئی ایک آدمی جو ہمیں گالیاں دیتے رہتے تھے اور پیچھا نہ چھوڑتے تھے۔ جب ان کی مدت نزدیک آئی تو خود ہی انہوں نے مباہلہ کرلیا کہ یا الٰہی ! ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس کو ہلاک کردے آخر وہ خود ہی ہلاک ہو کر ہماری سچائی پر مہر کر گئے۔ ایسا ہی ابوجہل نے بدر کے دن نبی علیہ السلام سے مباہلہ کیا تھا۔ ابوجہل نے کہا تھا کہ جو ہم دونوں میں سے قطع رحم کرنے والا اور مفسد ہو اے خدا اس کو آج ہلاک کردے ۔ آخر خدا تعالیٰ نے ابوجہل کو اسی دن ہلاک کردیا اور اس کی دعا قبول ہو کر اسی پر ہی پڑی۔۱؎ بلا تاریخ دسویں محرم کو شربت اور چاول کی تقسیم :۔