قِیَامَ فِیْ مَا اَقَامَ اللّٰہُ :۔
ایک صاحب نے اپنا ایک خواب بیان کیا جس میں کسی بڑے کام کے کرنے کی طرف اشارہ تھا مگر اس کام کے واسطے سامان سردست مہیا نہ تھے اور ان کا منشاء تھا کہ خواب کہ بناء پر فوراً اس کام کو شروع کر دیں۔
حضرت نے فرمایا کہ :۔
بعض خوابیں مدت کے بعد پوری ہونے والی ہوتیں ہیں۔ جب تک کہ اس کام کے واسطے اللہ تعالیٰ اسباب مہیا نہ کرے تب تک صبر کے ساتھ انتظار کرنا چاہیئے۔ دیکھو حضرت یوسفؑ پر جس قدر مصائب آئے وہ سب بے وقت خواب سُنانے کی وجہ سے آئے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ فقیر کو چاہیے کہ قِیَامَ فِی مَا اَقَامَ اللّٰہُ پر عمل کرے۔ یعنی جہاں خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا ہے وہاں کھڑا رہے جب تک کہ خدا تعالیٰ خود وہاں سے نکلنے کے سامان نہ بنائے ۔ ۲؎
نماز میں امام :۔
ذکر ہوا کہ چکڑا لوی کا عقیدہ ہے کہ نماز میں امام آگے نہ کھڑا ہو بلکہ صف کے اندر ہو کر کھڑاہو۔ فرمایا:۔
امام کا لفظ خود ظاہر کرتاہے کہ وہ آگے کھڑا ہوا۔ یہ عربی لفظ ہے اور اس کے معنی ہیں وہ شخص جو دوسرے کے آگے کھڑا ہو۔ معلوم ہوتاہے کہ چکڑالوی زبان عربی سے بالکل جاہل ہے۱؎۔
ایمانی طاقت علم سے پیدا ہوتی ہے:۔
بات یہ ہے کہ ایمانی طاقت علم کے سوا پیدا نہیں ہوتی۔ ہمارے نبی ﷺ کے وقت صحابہؓ نے بھیڑ بکریوں کی طرح اپنی جانیں دے دی تھیں۔ ان کو حق کا علم ہوگیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنے بیوی بچوں کو نہ دیکھا۔
میں نے جو کتاب حقیقۃ الوحی لکھی ہے اس کو جوشخص حرف بحرف پڑھ لے گا میں نہیں خیال کرتا کہ پھر وہ یہ خیال کرے کہ میں وہی ہوں جو اس کے خیال میں پڑھنے سے پہلے تھا۔ جو شخص ہمارے سلسلہ کو آہستگی اورٹھنڈے دل سے دیکھے گا۔ میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ہمیں حق پر پائے گا۔ سچائی میں خدا تعالیٰ نے ایک قوت رکھی ہے۔ سچائی دلوں کو خود اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ خدا تعالیٰ نے تو لوہے میں بھی ایک کشش کی خاصیت رکھی ہے تو کیا سچ میں کوئی جذب نہیں ہے ؟ سچ میں ایک کشش ہے وہ خود بخود دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔