نے ہماری جماعت کے ساتھ گفتگو کرنے سے بالکل گریز کیا۔
ہمارے اصول عیسائیوں پر ایسے پتھر ہیں کہ وہ ان کا ہرگز جواب نہیں دے سکتے ۔ یہ مولوی لوگ بڑے بدقسمت ہیں جو ترقی اسلام کی راہ روکتے ہیں۔ عیسائیوں کا تو سار امنصوبہ خود بخود ٹوٹ جاتاہے جبکہ ان کا خدا ہی مرگیا تو پھر باقی کیا رہا؟
اسلام کیلئے موسم بہار کی آمد:۔
اسلام نے بڑے بڑے مصائب کے دن گذارے ہیں۔ اب اس کا خزاں گذر چکا ہے اور اب اس کے واسطے موسم بہار ہے اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا۔ تنگی کے بعد فراخی آیا کرتی ہے ۔ مگرملاں لوگ نہیں چاہتے کہ اسلام اب بھی سرسبزی اختیار کرے ۔ اسلام کی حالت اس وقت اندرونی بیرونی سب خراب ہو چکی ہوئی ہے ۔ ظاہری سلطنت اسلامی جو کچھ ہے وہ بھی نہایت ضعف کی حالت میں ہے اور اندرونی حالت یہ ہے کہ ہزاروں گرجائوں میں جابیٹھے ہیں اور بہت سے دہریہ ہو گئے ہیں۔ جب یہ حالت اسلام کی ہو چکی تو کیا وہ خدا جس کا وعدہ تھا کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ( الحجر:۱۰)ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ کیا وقت نہیں آیا کہ اب بھی اسلام کی حفاظت کرے؟
چودہویں صدی کا مجدد:۔فرمایا:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تکذیب کرتے ہیں کہ اس صدی کے مجدد کو نہیں مانتے ۔ کیا آپ نے نہیں فرمایا تھا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوگا؟ صدی سے پچیس سال گذر چکے یعنی پورا چوتھا حصہ صدی کا طے ہوگیا ہے۔ اب بتائیں کہ وہ مجدد کون ہے اور کہاں ہے؟ ہم سے پہلے سب لوگ اس مجدد کے منتظر تھے بلکہ صدیق حسن خاں کا یہ خیال تھا کہ شاید میں ہی بن جائوں اور عبدالحی لکھنو والے کا بھی ایسا ہی خیال تھا۔ مگر اپنے خیال سے کیا بنتاہے جب تک خدا تعالیٰ کسی کو نہ بنائے کون بن سکتاہے ۔ جس کو خدا تعالیٰ کسی کام پر مامور کرتاہے وہ اس کو عمر عطا کرتاہے ۔ اسے اس کے کام کے واسطے توفیق عطا کرتاہے ۔ اس کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے ۔ دوسرے لوگ اپنے خیال میں ہی مرکھپ جاتے ہیں اور ان سے کچھ بن نہیں سکتا۔ کوئی جھوٹا تحصیلدار بھی بنے تو دو چار روز کے بعد گرفتار ہو کر جیل خانہ میں چلا جاتاہے چہ جائیکہ کوئی خدا کی طرف سے مامور اپنے آپ کو کہے حالانکہ وہ مامور نہ ہو۔ ۱؎:۔