فتویٰ دے دیا اور ہم کو نصاریٰ سے بھی بدتر لکھا۔ ان کو چاہیئے تھا کہ پہلے ہمارے حالات کی تحقیقات کرتے ۔ ہماری کتابیں اچھی طرح سے پڑھ لیتے پھر جو انصاف ہوتا وہ کرتے ۔ تعجب ہے کہ یہ لوگ اب تک اسلام کی حالت سے غافل ہیں گویا ان کو معلوم ہی نہیں کہ اسلام کس شکنجہ میں پڑا ہے ۔ اسلام کی اندرونی حالت بھی اس وقت خراب ہے اور بیرونی حالت بھی خراب ہو رہی ہے ۔
وفات وحیات ِ مسیح :۔
سار ازور ان لوگوں کا اس بات پر ہے کہ حضرت عیسیٰ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ نہیں سوچتے کہ یہ بات تو قرآن شریف میں لکھی ہے کہ وہ فوت ہو چکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شہادت دی ہے کہ میں ان کو مردوں میں دیکھ آیا ہوں۔ قرآن شریف میں پہلے توفی کا لفظ ہے اور رفع اس کے بعد۲؎ ہے ۔ پھر یہ بھی سوچنا چاہیئے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے زندہ ماننے میں اسلام کو کیا فائدہ حاصل ہے ۔ سوائے اس کے کہ عیسائیوں کے جھوٹے خدا کو ایک خصوصیت حاصل ہو جاتی ہے اور عیسائی لوگ حضرت عیسیٰ کو خد ا بنا لیتے ہیں۔ اور جاہل مسلمانوں کو دھوکہ دے کر عیسائی بنا لیتے ہیں۔ یسوع کو زندہ ماننے کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک لاکھ مسلمان مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا۔ یہ نسخہ تو آزمایا جا چکا ہے ۔ اب چاہیے کہ دوسرا نسخہ بھی چند روز آزما لیں جو ہم کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو چکے ہیں۔ قاعدہ ہے کہ جب ایک دوائی سے فائدہ حاصل نہ ہو تو انسان دوسری کو استعمال کرلے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ عیسائیت کو مٹانے کے واسطے اس سے بڑا اور کوئی ہتھیار نہیں کہ جس وجود کو وہ خدا بناتے ہیں اُسے مردوں میں داخل ثابت کیا جائے۔ پہلے پادری لوگ قادیان میں بہت آیا کرتے تھے اور خیموں میں ڈیرے لگاتے تھے اور وعظ کیا کرتے تھے مگر جب سے ہم نے یہ دعویٰ کیا ہے انہوں نے قادیان آنا بالکل چھوڑ دیا ہے ۔ ایسا ہی لاہور میں لارڈ بشپ نے ایک بڑے مجمع میں مسیح کی زندگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایک بڑا لیکچر دے کر حضرت مسیح کی فضیلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ثابت کرنی چاہی تھی۔ تب کوئی مسلمان بھی اس کا جواب نہ دے سکاک۔ لیکن ہماری جماعت میں سے مفتی محمد صادق صاحب نے اُٹھ کر جواب دیا اور کہا کہ قرآن شریف اور انجیل ہر دو سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ فوت ہو چکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں کیونکہ آپ سے فیض حاصل کرکے معجزات دکھانے والے اب تک موجود ہیں۔ اس سے بشپ لاچار ہوگیا ۳؎اوراس