اس کی مثال خود دنیا میں موجود ہے کہ تاجر اور ملازم لوگ باوجود اس کے کہ وہ اپنی تجارت اور ملازمت کو بہت عمدگی سے پورا کرتے ہیں۔ پھر بھی بیوی بچے رکھتے ہیں اور ان کے حقوق برابر اداکرتے ہیں۔ ایساہی ایک انسان ان تمام مشاغل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حقوق کو ادا کر سکتاہے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر بڑی عمدگی سے اپنی زندگی گذار سکتاہے ۔ خدا تعالیٰ کے ساتھ تو انسان کا فطرتی تعلق ہے کیونکہ اس کی فطرت خدا تعالیٰ کے حضور میں اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ( الاعراف : ۱۷۳) کے جواب میں قَالُوابَلیٰ کا اقرار کر چکی ہوئی ہے ۔ یاد رکھو کہ وہ شخص جو کہتاہے کہ جنگل میں چلا جائے اور اس طرح دنیوی کدورتوں سے بچ کر خدا کی عبادت کرے وہ دنیا سے گھبرا کر بھاگتا ہے اور نامردی اختیار کرتاہے ۔ دیکھو ریل کا انجن بے جان ہوکر ہزاروں کو اپنے ساتھ کھینچتاہے اور منزل مقصود پر پہنچاتا ہے ۔ پھر افسوس ہے اس جاندار پر جو اپنے ساتھ کسی کو بھی کھینچ نہیں سکتا۔ انسان کو خدا تعالیٰ نے بڑی بڑی طاقتیں بخشی ہیں۔ اس کے اندر طاقتوں کا ایک خزانہ خدا تعالیٰ نے رکھ دیا ہے لیکن وہ کسل کے ساتھ اپنی طاقت کو ضائع کر دیتاہے اور عورت سے بھی گیا گذرا ہوتاہے ۔ قاعدہ ہے کہ جن قوی کا استعمال نہ کیا جائے وہ رفتہ رفتہ ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر چالیس دن تک کوئی شخص تاریکی میں رہے تو اس کی آنکھوں کا نور جاتا رہتاہے ۔ ہمارے ایک رشتہ دار تھے انہوں نے فصد کرایا تھا۔ جراح نے کہہ دیا کہ ہاتھ کو حرکت نہ دیں۔ انہوں نے بہت احتیاط کے سبب بالکل ہاتھ کو نہ ہلایا ۔ نتیجہ یہ ہو اکہ ۴۰ د ن کے بعد وہ ہاتھ بالکل خشک ہوگیا۔ انسان کے قویٰ خواہ روحانی ہوں اور خواہ جسمانی جب تک کہ اُن سے کام نہ لیا جائے وہ ترقی نہیں پکڑ سکتے۔ ۴؎بعض لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ جو شخص اپنے قویٰ سے خوب کام لیتاہے اس کی عمر بڑھ جاتی ہے ۔ بے کار ہوکر انسان مردہ ہو جاتاہے بیکار ہوا تو آفت آئی ۱؎ مہمان کا حق :۔ سید حبیب اللہ صاحب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ :۔ آج میری طبیعت علیل تھی اور میں باہر آنے کے قابل نہ تھا مگر آپ کی اطلاع ہونے پر میں نے سوچا کہ مہمان کا حق ہوتاہے جو تکلیف اُٹھا کر آیا ہے اس واسطے میں اس حق کو ادا کرنے کیلئے باہر آگیا ہوں۔ علماء زمانہ کا رویہ :۔ فرمایا: خدا کی قدرت ہے کہ ہمارے سلسلہ کے متعلق علماء زمانہ نے بے دیکھے سمجھے