۳؍مارچ ۱۹۰۷ئ؁ ( قبل نماز ظہر) دین کو مقدم رکھیں:۔ سید حبیب اللہ صاحب آئی ۔ سی ۔ ایس مجسٹریٹ۱؎ آگرہ ۲؎بمعہ ایک عزیز رفیق کے قبل نماز ظہر حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کو مخاطب کرکے حضرت نے فرمایا:۔ اتنی تکلیف اٹھا کر اس جگہ کوئی شخص بغیر قوتِ ایمانی کے نہیں آسکتا ۔ دنیاداری کے خیال سے تو یہاں آنا گویا اپنے وقت کو ضائع کرنا سمجھا جاتاہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ۔ فرمایا:۔ دین اور دُنیا ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے سوائے اس حالت کے جب خدا چاہے تو کسی شخص کی فطرت کو ایسا سعید بنائے کہ وہ دنیا کے کاروبار میں پڑ کر بھی اپنے دین کو مقدم رکھے۔ ایسے شخص بھی دُنیا میں ہوتے ہیں۔ چنانچہ ایک شخص کا ذکر تذکرۃ الاولیاء میں ہے کہ ایک شخص ہزارہا روپیہ کے لین دین کرنے میں مصروف تھا۔ ایک ولی اللہ نے اس کو دیکھا اور کشفی نگاہ اس پر ڈالی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کا دل باوجود اس قدر لین دین روپیہ کے خدا تعالیٰ سے ایک دم غافل نہ تھا ۔ ایسے ہی آدمیوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ لَا تُلْھِیْھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ ( النور: ۳۸)کوئی تجارت اور خرید و فروخت ان کو غافل نہیں کرتی ۔ اور انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ دنیوی کاروبار میں بھی مصروفیت رکھے اور پھر خدا کو بھی نہ بھولے ۔ وہ ٹٹوکس کام کا ہے جو بروقت بوجھ دلانے کے بیٹھ جاتا ہے اور جب خالی ہو توخوب چلتاہے ۔ وہ قابل تعریف نہیں ۔ وہ فقیر جو دنیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتاہے وہ ایک کمزوری دکھلاتاہے ۔ اسلام میں رہبانیت نہیں ۔ ہم کبھی نہیں کہتے کہ عورتوں کو اور بال بچوں کو ترک کردو اور دنیوی کاروبار کو چھوڑ دو۔ نہیں بلکہ ملازم کو چاہیئے کہ وہ اپنے ملازمت کے فرائض ادا کرے اور تاجر اپنی تجارت کے کاروبار کو پورا کرے لیکن دین کو مقدم رکھے ۔ ۳؎