فرمایا:۔
قلوب کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض کو نثر سے بعض کو نظم سے اثر ہوتا ہے۔ ایک شخص کو صرف ہماری براہین احمدیہ کی نظم سے اثر ہوا۔ اور وہ ہمارے پاس پہنچا۔
’’پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن ‘‘
سال گذشتہ کا الہام ہے۔ اس کے متعلق ذکر ہوا کہ ہر طرف سے خبریں آرہی ہیں کہ اس سال غیر معمولی سردی پڑی ہے اور یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔
(بوقت عصر)
آریوں کے گندے اعتقادات کا ذکر ہوا۔ فرمایا:۔
آریوں کا اعتقاد ہے کہ خدا نے تو کچھ پیدا ہی نہیں کیا اور اولاد حرام طور پر حاصل کرنے کے شائق ہیں۲؎۔
یکم مارچ ۱۹۰۷ئ)
طاعون زدہ گائوں سے باہر کھلی جگہ ڈیرہ لگانا چاہیئے:۔ ایک دوست نے ذکر کیا کہ ہمارے گائوں میں طاعون ہے۔ فرمایا کہ:۔
گائوں سے فوراً باہر نکل جائو اور کھلی ہوا میں اپنا ڈیرہ لگائو۔ مت خیال کرو کہ طاعون زدہ جگہ سے باہر نکلنا انگریزوں کا خیال ہے اور اس واسطے اس کی طرف توجہ کرنا فرض نہیں۔ یہ بات نہیں طاعون والی جگہ سے باہر نکلنا یہ فیصلہ شرعی ہے ۔ گندی ہوا سے آپنے آپ کو بچائو۔ جان بوجھ کر ہلاکت میں مت پڑواور اتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کرو اور خدا تعالیٰ سے اپنے گناہ بخشوائو کہ وہ قادر خدا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے باوجود ان احتیاطوں کے اگر تقدیر الٰہی آجاوے تو صبر کرو۳؎