عاجز اکمل نے آیت خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثاً فَضْرِبْ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ (صٓ:۴۵) کی نسبت پوچھا کہ اگر اس کے وہ معنی کئے جاویں جو عام مفسروں نے کئے ہیں تو شرع میں حیلوں کا باب کھل جائے گا۔
آپ نے فرمایا:۔
چوں کہ حضرت ایوبؑ کی بیوی بڑی نیک‘خدمتگذار تھی اور آپ بھی متقی صابر تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تخفیف کردی اور ایسی تدبیر سجھا دی جس سے قسم بھی پوری ہوجائے اور ضرر بھی نہ پہنچے ۔ اگر کوئی حیلہ اللہ تعالیٰ سمجھائے تو وہ شرع میں جائز ہے کیوں کہ وہ بھی اسی راہ سے آیا جس سے شرع آئی۔ اس لیے کوئی ہرج کی بات نہیں۱؎۔
۲۶؍ فروری ۱۹۰۷ئ
(بوقت ظہر)
حضرت اقدس نے جو رسالہ ’’قادیان کے آریہ اور ہم ‘‘لکھا ہے وہ چھپ کرشائع ہوگیا ہے۔ بعض مخالفین کو بھی ارسال کرنے کے لیے فرمایا۔