فرمایا:۔
انسان عادت کو چھوڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اوربہت سے ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ سے شراب پیتے چلے آئے ہیں۔ بڑھاپے میں آکر جب کہ عادت کا چھوڑنا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلا کسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہوجاتے ہیں۔ میں حقہ کو نہ منع کہتا اور نہ جائز قرار دیتا ہوں مگر ان صورتوں میں کہ انسان کہ کوئی مجبوری ہو۔ یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو پرہیز کرنا چاہیئے۱؎۔‘‘
۲۵؍فروری ۱۹۰۷ئ
(بوقت ظہر)
نشانات کا ظہور :۔
فرمایا:۔
اب تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر اتمام حجت کردی ہے۔ نشان پر نشان ظاہر ہو رہا ہے وہ جو حدیث میں آیا ہے کہ جیسے تسبیح کے دانے ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ اسی طرح متواتر نشان ظاہر ہوں گے اسی وقت کے لیے تھا چنانچہ تم دیکھ رہے ہو کہ ایک نشان پورا ہو رہتا ہے تو اس کے ساتھ ہی دوسراپورار ہوجاتا ہے۔
طاعون کے متعلق ایک شخص نے زکر کیا کہ لدھیانہ میں پانچ جنازے ایک گھر کے ایک ہی وقت میں نکلے۔ دوسرے نے یہاں سے بارہ چودہ کوس کے فاصلہ پر ایک گائوں کا ذکر کیا کہ وہاں نو آدمی ایک کنبہ کے اکٹھے رات کو چنگے بھلے سوئے اور صبح سات مردہ پائے گئے ۔ پھر کچھ دیر کے بعد ایک لڑکا مرگیا۔
آپ نے فرمایا:۔
یہ خدا تعالیٰ کے قہری نشان ہیں۔ افسوس کہ لوگ اس پر بھی نہیں سمجھتے ۔ الہام اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِھِمْ(الرعد:۱۲) سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ جب تک خلقت رجوع الیٰ الحق نہ کرے گی یہ بیماری نہ جائے گی۔ دیکھو اس سال سب کی رائے یہ بندھی تھی کہ طاعون سے یہ ملک بہت کچھ پاک ہوگیا ہے اور اب عنقریب بالکل صاف ہوجائے گا مگر اس سال پہلے سالوں سے بڑھ کر حملہ ہوا ہے۔ ایسا حملہ کہ کئی گھرانے تباہ ہوگئے ہیں۔ بعض گائوں کے گائوں خالی ہوگئے۔ وہ جو قرآن مجید میں ہے وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اَوْ مَعَذِّبُوْھَا عَذَاباً شَدِیْدًا (بنی اسرائیل :۵۹) سب کچھ پورا ہو رہا ہے۔ قادیان کے متعقل مجھے الہام ہوا تھا لَوْلَا الْاِکْرَامُ لَھَلَکَ الْمُقَامُ۔ یعنی یہ گائوںبھی ہلاکت کا مستوجب تھا مگر اکرام کے سبب محفوظ رکھ لیا گیا جس کے متعلق اِنَّہٗ اٰوَی الْقَرْیَۃَ ہے۔ اٰوٰی کے معنے تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھے ہیں کہ کسی مصیبت کے بعد پناہ دینا۔ قرآن مجید میں بھی انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْماً فَاٰوٰی (الضّحٰی :۷) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے قادیان میں کچھ عذاب طاعون آنا تھا اور پھر اس کے بعد حفاظت ہوگی۔
شرع میں حیلہ:۔