بوقت عصر
آدابِ تلاوت:۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن شریف کس طرح پڑھا جاوے؟
حضرت اقدس نے فرمایا:۔
قرآن شریف تدبرو تفکر و غور سے پڑھنا چاہیئے ۔ حدیث شریف میں آیا ہے ۔رُبَّ قَارٍ یَلْعَنُہُ الْقُرْاٰنُ۔ یعنی بہت ایسے قرآن کریم کے قاری ہوتے ہیں جن پر قرآن کریم لعنت بھیجتا ہے۔ جو شخص قرآن پڑھتا اور اس پر عمل نہیں کرتا اس پر قرآن مجید لعنت بھیجتاہے۔ تلاوت کرتے وقت جب قرآن کریم کی آیت رحمت پر گذر ہوتو وہاں خدا تعالیٰ سے رحمت طلب کی جاوے اور جہاں کسی قوم کے عذاب کا ذکر ہوتو وہاں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خدا تعالیٰ کے آگے پناہ کی درخواست کی جاوے اور تدبّر و غور سے پڑھنا چاہئے اور اس پر عمل کیا جاوے۔۱؎
بلا تاریخ:
امیر حبیب اللہ خان والی افغانستان :۔
یہ ڈائری اس وقت کی ہے جبکہ حضرت اقدس اند رکے مکان میں ہوتے ہیں اور اس کو صاحبزادہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب نے لکھ کر اپنے رسالہ تشحیذ الاذہان کے جلد ۲ نمبر ۱ میں درج کیا ہے ۔ وہاں سے ہم درج کرتے ہیں:۔
’’امیر حبیب اللہ خاں والیٔ افغانستان کی آمد پر فرمایا کہ : ۔
لوگ اس کے لیے بڑے بڑے جلسے کرتے ہیں اور اس کے آنے پر خوش ہیں۔ مگر ہم اس کا آنا نہ آنا برابر سمجھتے ہیں ۔ ہم اس آدمی کی پرواہی کیا کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل نہ کرے۔ ہمارا بادشاہ خدا ہے اور امیر حبیب اللہ اس کا مجرم ہے کیونکہ اس نے بلا کسی حق کے صاحبزادہ عبداللطیف کو صرف اس لیے کہ وہ گورنمنٹ انگریزی سے جہاد کرنا نا جائز قرار دیتے تھے قتل کیا اور پھر نہایت بیدردی کے ساتھ۔ ایسے شخص کے لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ یَّْقْتُلْ مُؤْ مِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَھَنَّمُ (النسائ: ۹۴)یعنی جو شخص کہ ایک مومن کو بلا کسی کافی عذر کے قتل کردے پس اس کی سزا جہنم ہے۔ پس ہم تو الٰہی فیصلہ کے منتظر ہیں اور یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے شخص پر میرا غضب نازل ہوگا۔ پس خدا کے غضب سے اور کونسی چیز ہے جو خطر ناک ہے۔
مسواک کو پسند فرمانا:۔ حضرت صاحب مسواک کو بہت پسند فرماتے ہیں اور علاوہ مسواک کے اور مختلف چیزوں سے دن میں کئی دفعہ دانتوں کو صاف کرتے
ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی یہی سنت تھی ۔ پس سب کو چاہیئے کہ اس طرف بھی توجہ رکھا کریں۔
آزمائش کے بغیر ایمان کوئی حقیقت نہیں رکھتا:۔