سعد اللہ لدھیانوی :۔
سعد اللہ لدھیانوی کا ذکر تو فرمایا:۔
میں نے اپنے قصیدہ انجام ِ آتھم میں اس کے متعلق لکھاتھا:۔
اٰذَیْتَنِیْ خُبْثًا فَلَسْتُ بِصَادِقٍ اِنْ لَّمْ تَمُتْ بِالْخِزْیِ یَا ابْنَ بَغَائِ
یعنی خباثت سے تو نے مجھے ایذا دی ہے ۔ پس اگر تو اب رسوائی سے ہلاک نہ ہوا تو میں اپنے دعویٰ میں سچا نہ ٹھہروں گا۔ اے سر کش انسان!فرمایا:۔
اسی طرح سعد اللہ نے بھی میرے حق میں لکھا ہے کہ تیرا خدا یمین اور قطع وتین اور تیرا سلسلہ تاباہ ہوگا۔ اب یہ اس نے مباہلہ کر لیا تھا۔دیکھو اب کون تباہ و ہلاک ہوا۔ یہی مباہلہ کا نتیجہ تھا کہ وہ لکھتاہے کہ یہ کذاب ہے۔ اب دیکھو کہ کذاب کا یہی حال ہوا کرتاہے کہ اس کے مقابل پر مومن او سچے ہلاک ہوتے جاویں ؟ ہرامر میں کاذب غالب ہو اور اس کو خدا کی نصرت ملتی جاوے اور خدا تعالیٰ سچوں پر تباہی اور ہلاکت وارد کرنا جاوے؟
ہماری صداقت کا آفتاب چڑھ آیا ہے ۔ کیا خدا تعالیٰ دجالوں اور کاذبوں کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے کہ کاذبوں کو مہلت دیتاجاوے اور اُن کے مقابل سچوں کو ہلاک کرتا جاوے؟ کیا اس بات کا ثبوت کسی سابق زمانہ میں کوئی بھی گذرا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیا ہو؟ دراصل اب دنیا میں دہریت پھیل گئی ہے۔ اب تو ہماری صداقت کا آفتاب چڑھ آیا ہے۔ یہ وہ امور ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت ملتا ہے ۔ ۱؎
(بوقت ظہر)
خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی سبب موثر نہیں :۔
آج کل جو خطر ناک امراض ترقی پذیر ہو رہے ہیں ان کے متعلق
ذکر ہونے پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تقریر فرما رہے تھے ۔ جب خاکسار ۲؎ حاضر ہوا تو کلمات ذیل برزبان درافشاں جاری تھے۔
توحید اسلام ہی کی توحید ہے۔ اسلام سکھلاتا ہے کہ جو زہریلے ذرات انسان کے اندر جا کر خطرناک امراض کا باعث ہوتے ہیں۔ وہ سب خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت چلتے اور اثر پذیر ہوتے ہیں۔ بغیر اذن ِ الٰہی کو ئی ذرہ اثر نہیں کر سکتا۔ لہٰذا خدا تعالیٰ کے آگے تضرع و زاری کرنی چاہیئے کہ وہ زہریلے ذرات و مواد کے اثر سے محفوظ رکھے۔ اگر زہریلے ذرات و مواد انسان کے اندر خود بخود اثر پذیر ہوتے تو پھر ان ذرات کے آگے ہاتھ جوڑنے پڑتے کہ اثر نہ کریں مگر ایسا امر نہیں ہے بلکہ کوئی چیز و ذرہ خدا تعالیٰ کے حکم و اذن کے سوا اثر نہیں کر سکتا۔۱؎
۲۱؍فروری ۱۹۰۷ئ:۔
(بوقت ظہر)