(بوقت ظہر)
مباحثات تحریری ہوں :۔
مونگھیر کی جماعت اور وہاں کے کسی مباحثہ کا ذکر ہوا۔۔ فرمایا:۔
تحریری سوالات ہوں تو ہماری طرف سے بھی مخالفین کے لیے تحریری جواب دیا جاوے اور زبانی مباحثات منطنۂ فساد ہوتے ہیں۔
قصیدہ ٔ اعجازیہ :۔
قاضی ظفر الدین متوفی کے قصیدہ کا ذکر ہوا جو اس نے حضرت کے قصیدہ کے مقابلہ میں بنایا تھا اور اس کو خدا نے اتنی فرصت نہیں دی کہ شائع کر سکے۔ اب اس کو ثناء اللہ چھاپتاہے ۔ حضرت نے فرمایا :۔
قصیدہ بنانے والا تو اپنے کیفرِ کردار کو پہنچ گیا اور جہان سے رخصت ہوگیا اور وہ اس کو اپنی زندگی میں بھی شائع نہ کر سکا ۔ ثناء اللہ کو تو اتنی لیاقت نہیں کہ اس کی تصحیح کر سکے۔۲؎
۱۷؍فروری ۱۹۰۷ئ
خدا تعالیٰ کا غضب اور آفاتِ سماوی :۔
حضرت حکیم الامت نے کسی شخص کا مقولہ بیان فرمایا کہ وہ کہتاہے کہ زلزلے بیماریاں آیا ہی کرتی ہیں۔ ان کو خدا تعالیٰ کے غضب سے کیا تعلق ہے؟
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:۔
ایسے لوگوں کو خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم کے منکر ہیں۔ دہریے ہیں۔ کیا موسیٰ ، نوح علیہماالسلام کے وقت میں یونہی بیماریاں آتی تھیں یا کہ خدا تعالیٰ نے ان کا کوئی سبب بیان فرمایا ہے؟
فرمایا:۔ اس دفعہ طاعون خطرناک شکل پکڑتی جاتی ہے۔ ہمیں تو اس سے خوشی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے خدا تعالیٰ
کی ہستی اور دُنیاکی ناپائیداری اہل دُنیا پر ثابت ہو رہی ہے ۔ ؎
خدا رابخدا تواندشناخت
سو فسطائی جو حقیقت ِ اشیاء کے منکر ہیں ان کا جواب یہی لکھا ہے کہ جب ان کو آگ میں ڈالا جاتا ہے تب حقیقت اشیاء کے قائل ہو جاتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ اپنی ہستی کا ثبوت دُنیا پر واضح فرما رہا ہے ۔