شہادت تو مومن کے واسطے ہوتی ہے جو پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس کو قربان کر چکا ہوتاہے اس کی موت ہر حالت میں شہادت ہے۔ لیکن یہ ایک عام قانون بنانا کہ ہر ایک شخص جو طاعون سے مرتا ہے وہ شہید ہے تو پھر کیا چوہڑے ، چمار ، ہندو ۔ آریہ، عیسائی ، دہریہ، بُت پرست جو ہزارہا طاعون سے مر رہے ہیں وہ سب درجہ شہادت کو حاصل کر رہے ہیں؟ سید عبدالمحی عرب نے مولوی ثناء اللہ کو کہا تھا کہ امرتسر کارسل بابا طاعون کے عذاب سے ہلاک ہواہ ے تو ثناء اللہ نے کہا کہ وہ شہادت کی موت مرا ہے تو عرب صاحب نے کہا پھر خوب ہے میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو بھی اس قسم کی شہادت کی موت دے۔
غرض شہادت نفس طاعونی موت میں شامل نہیں ہے بلکہ شہادت کا درجہ تو ان مومنوں کے واسطے ہے جو اپنی زندگی میں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر چکے ہیں۔ طاعونی عذاب موسیٰ کے زمانہ میں بھی اُن کے مخالفوں پر پڑا تھا اور پھر حضرت عیسیٰ کے بعد بھی یہ عذاب ان کے مخالفوں پر وارد ہوا تھا اور اب بھی خدا تعالیٰ نے بطور نشان کے یہ عذاب نازل فرمایا ہے۔
آدم کا بہشت :۔
ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ بہشت میں جو لوگ داخل ہوں گے وہ لوگ نکالے نہیں جاویں گے تو پھر آدم اور حوا کیوں نکالے گئے تھے؟
حضرت نے فرمایا کہ :۔
آدم جس بہشت سے نکالا گیا تھا وہ زمین پر ہی تھا بلکہ تورات میں اس کی حدود بھی بیان کی گئی ہیں ۔ نصوصِ قرآنیہ سے یہی ثابت ہے کہ انسان کے رہنے اور مرنے کے واسطے یہی زمین ہے جو شخص اس کے برخلاف کچھ مذہب رکھتاہے وہ خدا تعالیٰ کے کلام کی بے ادبی کرتا ہے ۔
بلاتاریخ :۔
قرض پر زکوٰۃ :۔ ایک شخص کا سوال حضرت کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو روپیہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس پر اس کو زکوٰۃ دینی لازم ہے ؟
فرمایا:۔ نہیں
اعتکاف :۔
ایک شخص کا سوال حضرت اقدس کی خدمت میں پیش ہوا کہ جب آدمی اعتکاف میں ہوتو اپنے دنیوی کاروبار کے متعلق بات کر سکتا ہے یا نہیں؟ فرمایا:۔
سخت ضرورت کے سبب کر سکتاہے اور بیمار کی عیادت کے لیے اور حوائج ِ ضروری کے واسطے باہر جا سکتاہے ۔۱؎
۱۶؍فروری ۱۹۰۷ئ