دنیا کی عمر اور اس کا انجام:۔ فرمایا:۔
آخر ایک دن اس دنیا کا خاتمہ ہونے والا ہے اور سب فنا ہو جائیں گے اور اس فنا کا وقت دنیا کی عمر کے مطابق ساتویں ہزار سال کے بعد معلوم ہوتا ہے۔ یہ گنتی ہم حضرت آدم سے کرتے ہیں مگر اس سے یہ مراد نہیں کہ اس سے پہلے انسان نہ تھا یا دنیا نہ تھی بلکہ ایک خاص مورث اعلیٰ سے اس گنتی کو لیا جاتا ہے جس کا نام آدم تھا۔ جیسا کہ اول میں وہ آدم تھا ایسا ہی آخر میں ایک آدم ہے۔ حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا زمانہ اس دنیا کی عمر کے روز میں گویا عصر کا وقت تھا۔ جب کہ وہ عصر کا وقت تھا تو خود اندازہ ہوسکتا ہے کہ اب کتنا وقت باقی ہوگا۔ انجیل سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اب دنیا کی عمر تھوری باقی ہے۔
حضرت مولوی نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ اس قسم کے الفاظ جیسا کہ قیامت فنا وغیرہ ہیں بعض جگہ کسی خاص قرن اور خاص قوم کے متعلق آتے ہیں۔
فرمایا:۔
یہ درست ہے اور خدا تعالیٰ قدیم سے خالق چلا آتا ہے۔ لیکن اس کی وحدت اس بات کو بھی چاہتی ہے کہ کسی وقت سب کو فنا کردے ۔کُلُّ مَنْْ عَلَیْھَا فَانٍ (الرحمن :۲۷)سب جو اس پر ہیں فنا ہو جانے والے ہیں ۔ خواہ کوئی وقت ہو۔ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ وقت کب آئے گا۔ مگر ایسا وقت ضرور آنے والا ہے ۔ یہ اس کے آگے ایک کرشمہ قدرت ہے ۔ وہ چاہے پھر خلق ِ جدید کر سکتاہے۔
تمام آسمانی کتابوں سے ظاہر ہے کہ ایسا وقت ضرور آنے والا ہے ۔ خدا کی قدرت کا خیال کیا جاوے تو یہ بات مستبعد اور قابل تجویز۱؎ نہیں رہی۔ زلزلہ کا ایک دھکا لگتاہے تو شہروں کے شہر ویران ہو جاتے ہیں۔ اس سے خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اظہار ہوتاہے ۔ جب امن کا زمانہ ہوتا ہے تو لوگوں کو منطق یاد آتی ہے اور باتیں بناتے ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ ایک ہاتھ دکھاتاہے تو تمام فلسفہ بھول جاتاہے۔ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ذکر کرتے ہیں کہ ۴؍اپریل ۱۹۰۵ئ والے زلزلہ میں ان کے کالج کا ایک ہندو لڑکا دہریہ بے ساختہ رام بول اُٹھا۔ جب زلزلہ تھم گیا تو پھر کہنے لگا کہ مجھ سے غلطی ہوئی تھی۔ غرض ایسے لوگ درست نہیں ہوتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ عجوبہ قدرت نہ دکھائے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور جب تک کہ ایسا نہ ہو توحید قائم نہیں ہوتی ۔
کیا ہر طاعونی شہادت ہے؟
ذکر آیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ طاعون کوئی عذابِ الٰہی نہیں بلکہ یہ تو ایک شہادت ہے ۔