۱۵؍ فروری ۱۹۰۷ئ؁ الہام کی کیفیت:۔ ایک الہام کا ذکر تھا۔ فرمایا:۔ یاد نہیں لیکن لکھا ہوا ہے ۔ پھر فرمایا:۔ بعض دفعہ الہام الٰہی ایسی سرعت کے ساتھ ہوتا ہے جیسا کہ ایک پرندہ پاس سے نکل جاتا ہے اور اگر اسی وقت لکھ نہ لیاجاوے یا اچھی طرح سے یاد نہ کرلیا جاوے تو بھول جانے کا خوف ہوتاہے ۔ ایک الہام:۔ آج کی وحی الٰہی ’’اس ہفتہ میں کوئی باقی نہ رہے گا‘‘ کے متعلق فرمایا کہ:۔ ابھی ٹھیک طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس الہام میں ہفتہ سے کیا مراد ہے اور یہ کس کے متعلق ہے۔ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے عرض کیا کہ بعض اس قسم کے الہامات کسی خاص مکان اور خاص زمانہ کے متعلق ہوتے ہیں۔ فرمایا:۔ درست ہے۔ دانیال کی کتاب میں صدہاسال کو ہفتہ کہا گیا ہے اور دنیا کی عمر بھی ایک بتلائی گئی ہے۔ اس جگہ ہفتہ سے مراد سات ہزار سال ہیں۔ ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آیا ہے۔ اِنَّ یَوْماً عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ (الحج :۴۸) تیرے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے۔