دیب اگر دلی کو شش کرتا تو ضرور اس کا اثر لوگوں میں ہوتا کیونکہ
سخن کزدل بروں آید نشیند لاجرم بردل
دیب اہل امریکہ کو کیا کوستا ہے اس کو اپنے دل کو کوسنا چاہیئے ۔ اس نے ہمارے سلسلہ کی طرف پوری توجہ نہیں کی بلکہ بدگوئی کے ساتھ ہندوستان سے واپس چلا گیا تھا۔ اس سے تو ہمارے نزدیک عبداللہ کوئلم بدرجہا بہتر ہے جس نے ایک جماعت مسلمانوں کی بنالی ہے۔
فاضل امروہی نے عرض کیا کہ ویب کے متعلق حضور نے ایک پیشگوئی کی تھی جب کہ وہ قادیان میں آنے کا ارادہ رکھتا تھا کہ وہ یہاں نہیں آئے گا اور واپس چلا جاوے گا اور جس بات کے لیے واپس گیا تھا وہ بھی اس کو نصیب نہ ہوئی۔ چنانچہ واپس جا کر نادم ہوا۔
(بوقت عصر)
اہل مغرب میں تبلیغ:۔
قبل نماز عصر حضرت اقدس مسجد میں تشریف لائے۔ مولوی محمد علی صاحب کو فرمایا کہ:۔
اگر اہل امریکہ ویورپ ہمارے سلسلہ کی طرف توجہ نہیں کرتے تو وہ معذورہیں اور جب تک ہماری طرف سے ان کے آگے اپنی صداقت کے دلائل نہ پیش کئے جاویں وہ انکار کا حق رکھتے ہیں ۔ہماری صداقت کے دلائل وحقیقت اسلام پر ایک مستقل کتاب انگریزی میں چھاپ کر ان کو پیش کی جاوے۔ جن باتوں کو ہمارے مخالف مسلمان ان کے آگے پیش کرتے ہیں ان میں بہت غلطیاں ہیں۔ مثلاً حیات مسیح۔ مسئلہ ختم نبوت۔ مکالمات الٰہی کے متعلق اس زمانہ کے مسلمانوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔ اس کتاب میں ان مسائل کی تنقیح اور ہمارے سلسلہ کے دلائل صداقت لکھے جاویں۔
دیب نے ایک چھٹی لکھی کہ جو معجزات اب پیش کئے جاتے ہیں ان پر سب ٹھٹھے کئے جاتے ہیں۔ ان سب باتوں کے لیے ایک مستقل کتاب جامع ہو جس میں یہ سب مضمون لکھے جاویں۱؎