محمد حسین ہمیشہ ہمارے پاس آیا جایا کرتاتھا۔ پندرہ روز تک بٹالہ میں نہیں ٹھہرسکتا تھا بلکہ ہمارے پاس آجاتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے متعلق اس کے باپ نے ایک سخت ناگوار اشتہار دینا چاہا تھا اور محمد حسین نے مجھے کہا کہ میرے باپ کو اس امر سے منع کرو۔ چنانچہ ہم نے اس کو اس امر سے روکا تھا۔
میرناصر نواب صاحب نے خواب بیان کیا کہ تھوڑے روز ہوئے میں نے محمد حسین کو خواب میں دیکھا کہ سامنے سے چلا آتا ہے اور میرے ساتھ مصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ تو میں نے اس کے ساتھ مصافحہ کیا اتنے میں مجھے آواز آئی۔ جو جھکے آپ سے اس سے جھک جائیے۔
بوقت عصر
احوال افغانستان :۔
حضرت اقدس مسجد میں تشریف لائے تو نووارد افغان مولوی صاحب سے بزبان فارسی استفسار فرمایا کہ آپ کے ملک میں سردی کا کیا حال ہے۔ انہوں نے عرض کی ہمارے ملک میں بہت سردی ہوتی ہے۔ بالخصوص تین ماہ میں سخت سردی پڑتی ہے۔ فصل برف کے نیچے دب جاتے ہیں۔
حضرت نے پوچھا کہ
افغانستان میں عربی کی کیا کیا کتابیں لوگ پڑھتے ہیں۔
افغان مولوی صاحب نے عرض کی کہ فقہ کا زیادہ رواج ہے۔ قدوری۔ کنز ۔ شرح وقایہ ۔ ہدایہ پڑھ لیتے ہیں۔زیادہ علوم سے اکثر علماء بے بہرہ ہوتے ہیں۔ حدیث کے علم کا رواج افغانستان میں نہیں ہے۔ سفر ریل میں ایک افغان مولوی مجھے ملا۔ میرے پاس بخاری شریف دیکھ کر کہا۔ تم وہاں بی ہو۔ حضرت حکیم الامت نے فرمایا خود مولف بخاری شریف کو ان لوگوں کے بھائی بندوں نے بخارا سے جلا وطن کردیاتھا۔
بعدازاں نماز کھڑی ہوگئی۔ ادائے نماز کے بعد حضرت اندر تشریف لے گئے۔۱؎
۱۳؍فروری ۱۹۰۷ئ
(بوقت ظہر)
مسٹر ویب کا ذکر:۔ مفتی صاحب نے مسٹرویب باشندہ امریکہ کا خط حضرت اقدس کو سنایا۔ حضرت نے فرمایا :۔