تازہ وحی :۔ بعدازاں حضرت نے خداتعالیٰ کی تازہ وحی کا ذکر فرمایا جو پہلے درج ہو چکی ہے اور اس سے مندرجہ ذیل فقرہ سُنایا:۔ آسمان ٹوٹ پڑا سارا معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے ۔ تشریح میں فرمایا:۔ اگرچہ کثرت بارش سے بھی آسمان کا ٹوٹ پڑنا مراد ہو سکتا ہے مگر ان الہامات کی تشریح میں ہم کسی پہلو پر زور نہیں دیتے ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جس رنگ و صورت میں چاہا، واقع ہوں گے ، ان الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ وحشت ناک امر واقع ہونے والا ہے جس سے لوگ متحیرو خوف زدہ ہو جاویں گے لہٰذا خدا تعالیٰ نے ان کی طرف سے حکایتاً بیان فرمایا ہے کہ معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے ۔ فرمایا:۔ ایسا معلوم ہواہے کہ وہ وقت دور نہیں ہے ۔ قریب آگیا ہے ۔ پھر حضرت اقدس نے فاضل امروہی سے استفسار فرمایا کہ :۔ خطوط سے معلوم ہوگا آپ کی طرف بارش زور سے برس رہی ہے یا نہیں ؟ مولوی صاحب نے عرض کی ۔ اُس طرف اتنی بارش نہیں ہے جس قدر اس طرف برس رہی ہے پھر حضرت نے بیماری طاعون کا حال پوچھا۔ مولوی صاحب نے عرض کی کہ بیماری اس طرف بہت ہے۔ پھر حضرت اقدس نے فرمایا کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری :۔ ثناء اللہ لکھتاہے کہ سعد اللہ کی وفات کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ حالانکہ یہ پیشگوئی روز روشن کی طرح پوری ہوگئی ہے حقیقۃ الوحی میں اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے متعلق زبردست دلائل لکھے جاویں گے ۔ مولوی محمد حُسین بٹالوی:۔ فرمایا:۔ ثناء اللہ بہ نسبت محمد حسین بٹالوی کے بدگوئی میں بڑھ گیا ہے ۔ محمد حسین بٹالوی کا ذکر ہوا۔ فاضل امروہی نے عرض کی کہ ایک وہ زمانہ تھا کہ اس نے کہا تھا کہ میں نے ہی ان کو یعنی حضور کو عروج پر چڑھایا تھا اور میں ہی گرائوں گا مگر معاملہ برعکس ہوا۔ اس جگہ تو یوماً فیوماً ترقی ہو رہی ہے اور شرق و غرب کی مخلوق آپہنچی ہے اور محمد حسین اکیلا طریدرہ گیا ہے ۔ اکثر احباب نے اس کو چھوڑ دیاہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ اشاعت السنتہ سے اس کو تین سوروپیہ تک بچ جاتا تھا۔ اب کوئی اس سے پوچھے کہ کیا حال ہے۔ حضرت نے فرمایا:۔