سوء ادب میں داخل ہے جن لوگوں کو محض شراکت کا فخر حاصل کرنا مقصود ہے وہ جو چاہیں کریں مگر ایک محقق ناتمام تقریر سے خوش نہیں ہوسکتا۔سچائی کو ناتمام چھوڑنا ایسا ہے جیسا کہ بچہ اپنے پورے دنوں سے پہلے پیٹ سے ساقط ہوجائے آئندہ آپ کو اختیار ہے۔ خادم مسیح موعود محمد صادق عفااللہ عنہ۲؎ ۱۷؍فروری ۱۹۰۷ئ؁ ۱۱؍فروری ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت ظہر) آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھنا:۔ مفتی صاحب نے کسی شخص کا سوال خط سے پیش کیا کہ میں نے ایک بیوہ عورت کے ساتھ نکاح کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ کو میں نے خواب میں دیکھا کہ آپ نے اس کے ساتھ نکاح سے منع فرمایا کیااس پر عمل کیا جاوے یا نہیں؟ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ :۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مَنْ رَآنِیْ فَقَدْ رَاَْی الْحَقَّ لٰہذا اس پر عمل کیا جاوے۔ چند فقہی مسائل:۔ (۱) پھر خط سے سوال پیش ہوا کہ کئی اشخاص نے ایک گائے قربانی کرنے کے لیے خریدی تھی جن میں سے ایک احمدی تھا۔ غیر احمدیوں نے اس کو اس وجہ سے اس گائے کا حصہ قیمت واپس دے دیا کہ اس کا حصہ قربانی میں رکھنے سے قربانی نہ ہوگی۔ اس لیے اس شخص نے لکھا کہ میں اپنی قربانی کا حصہ نقد قادیان میں بھیج سکتا ہوں یا نہیں؟ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:۔ اس کو لکھو کہ قربانی کا جانور اس قیمت سے لے کر وہاں ہی قربانی کردے۔ عرض کی گئی کہ اس کا حصہ قیمت جو گائے کے خریدنے میں تھا وہ بہت تھوڑا ہے۔ اس سے دنبہ بکرا خرید نہیں سکے گا۔ حضرت نے فرمایا:۔ اس کو لکھو کہ تم نے جب کہ اپنے اوپر قربانی ٹھہرائی ہے اور طاقت ہے تو اب تم پر اس کا دینا لازم ہے اور اگر طاقت نہیں تو پھر اس کا دینا لازم نہیں۔