حضرت نے فرمایا:۔ جواہرات ومکانات پر کوئی زکوٰۃ نہیں بوقت عصر طاعون کے ذکر پر فرمایا کہ :۔ اس وقت جو بے وقت بارش متواتر برس رہی ہے۔ واللہ اعلم اس سے طاعونی کیڑے ہی پرورش پارہے ہیں۱؎؎۔ ۱۰؍فروری ۱۹۰۷ئ؁ مینجر گوروکل گوجرانوالہ کا ایک اور خط حضرت صاحب کے نام آیا جس کا جواب حضور نے مفتی صاحب کو لکھنے کے لیے فرمایا ۔ چنانچہ مفصلہ ذیل خط لکھا گیا۔ جناب مینجر صاحب گوروکل گوجرانوالہ تسلیم ! آپ کا دوسرا خط حضرت کی خدمت میں پہنچا جس میں آپ نے ظاہر کیا ہے کہ آپ نصف گھنٹہ سے زیادہ وقت نہیں دے سکتے اور ایک عالم کے واسطے بسبب اس کے علم کے اتنا وقت کافی ہے۔ بجواب گذارش ہے کہ حضرت فرماتے ہیں کہ اہم مذہبی امور پر گفتگو کرنے کے واسطے اتنا تھوڑا وقت کسی صورت میں کافی نہیں ہوسکتا۔ اس واسطے ہم ایسی مجلس میں شریک نہیں ہوسکتے ۔ اگر آپ کم از کم تین گھنٹہ کا وقت ہمارے مضمون کے واسطے رکھتے تو ممکن تھا کہ ہم خودجاتے یا اپنا کوئی فاضل دوست اپنا مضمون دے کر بھیج دیتے ہم کسی طرح سمجھ ہی نہیں سکتے کہ ایسے مضامین عالیہ میں صرف آدھ گھنٹہ کافی ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ یہ بات کیوں کر آپ درست قرار دیتے ہیں۔ جب کہ آپ ہم سے یہ امید کیونکر رکھتے ہیں۔ ایک نکتہ معرفت کا قبل از تکلمیل گلا گھونٹنا درحقیقت سچائی کا خون کرنا ہے جس کو کوئی راستباز پسند نہیں کرے گا۔ اگر علم اور فضل کا معیار حد درجے کے اختصار اور تھوڑے وقت میں ہوتا تو چاہیئے تھا کہ وید صرف چند سطروں میں ختم ہوجاتا۔ مجھے افسوس ہے کہ اس تھوڑے وقت نے مجھے اس اشتراک سے محروم رکھا ۔ کیا خدا تعالیٰ کی ذات صفات کی نسبت کچھ بیان کرنا اور پھر روح اور مادہ میں جو فلاسفی مخفی ہے اس کو کھولنا آدھ گھنٹہ کا کام ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ لفظ ہی