مولوی صاحب نے عرض کی کہ یورپ کی تار خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض جگہ سخت سردی پڑ رہی ہے حتّٰی کہ انجنوں میں بھی پانی جم جاتا ہے۔
آپ نے پوچھا کہ
کیا غیر معمولی سردی لکھا ہے یا کہ معمولی؟
مولوی صاحب نے عرض کی کہ غیر معمولی سردی کی تار خبریں درج ہیں۔ اتنے میں مولوی محمد احسن صاحب بھی آگئے۔ انہوں نے عرض کی کہ حضور کا الہام ہے ؎
پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن
ثلج برف کے معنے ہیں اور یہ غیر معمولی سردی اس پیشگوئی کو پورا کررہی ہے۔ اتنے میں حضرت حکیم الامت تشریف لے آئے۔ نماز کی جماعت کھڑی ہوگئی۔ آپ نماز باجماعت ادا فرما کر اندر تشریف لے گئے۔ ۲؎
ٍ۳۱؍جنوری ۱۹۰۷ئ
(بوقت عصر)
خطوط کے جواب میں حضور کا طریق:۔
حضرت اقدس نماز عصر میں تشریف لائے مفتی صاحب سے فرمایا کہ : ۔
بعض شکایتیں آئی ہیں کہ خطوں کا جواب نہیں ملتا۔ خطوں کے جواب لکھے جاویں۔۔۔۔۔۔واضح ہو کہ حضرت اقدس امام ہمام علیہ السلام کے نام جو خطوط آتے ہیں وہ براہ راست چھٹی رساں حضرت اقدس کو جا کر دیتا ہے اور سب خطوں کو حضرت اقدس خود ملاحظہ فرماتے ہیں۔ اکثر جواب لکھنے کے لیے ہدایتیں کر کے منشی کو سپرد فرماتے ہیں ۔ ناسازی طبع نہ ہو اور فرصت ہو تو بہت کا جواب خود تحریر فرماتے ہیں۳؎
۹؍ فروری ۱۹۰۷ئ
خط سے سوال پیش ہوا کہ مکان میں میرا پانچ سو روپیہ کا حصہ ہے۔ اس حصہ میں مجھ پر زکوٰ ۃ ہے یا نہیں؟