میں طاعون ہے۔ حضرت نے فرمایا:۔ اس دفعہ یہ بیماری زیادہ تر خطر ناک صورت میں ہے۔ سارے موسم سرما میں بھی اکثر مقامات میں ترقی پر رہی ہے اعتدالی ایام میں اور بھی خطرناک ہوگی۔ بجز توبہ واستغفار اس کا کوئی علاج نہیں۔ نماز ظہر کے بارہ میں حضور کا طریق :۔ فرمایا:۔ مولوی نورالدین صاحب کو بلائو کہ نماز پڑھی جاوے۔ مولوی صاحب بلائے گئے اور ڈیڑھ بجے نماز ظہر ادا کی گئی۔ فرض کی نماز باجماعت ادا کر کے حضرت اندر تشریف لے گئے۔ حضرت اقدس کا مدام یہی اصول ہے کہ آپ ظہر کی پہلی چار سنتیں گھر میں ادا کر کے باہر تشریف لاتے ہیں۔ پچھلی دو سنتیں بھی جا کر اندر پڑھتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر ادائے فرض کے بعد مسجد میں بیٹھنا منظور ہو تو پچھلی دو سنتیں فرضوں کے بعد مسجد میں ہی ادا فرماتے ہیں۱؎۔ ۳۰؍ جنوری ۱۹۰۷ئ؁ (بوقت ظہر) آج ظہر کی نماز میں حضرت اقدس تشریف لائے ۔ آپ کی طبیعت قدرے علیل معلوم ہوتی تھی ۔ اس وقت کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔ نماز باجماعت ادا فرما کر اندر تشریف لے گئے عصر کی نماز میں آپ اذان ہونے کے بعد جلدی تشریف لے آئے۔ فرمایا:۔ مولوی صاحب کو بلائو ۔ نماز ادا کی جائے فرمایا:۔ درود گردہ ہورہا ہے۔ سرد ہوا تیز چلتی ہے تو درد شروع ہوجاتا ہے۔ پھر آپ بیٹھ گئے ۔ مولوی محمد علی صاحب ومفتی محمد صادق صاحب بھی آگئے ۔ ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ رسول (THE CIVIL&MILTARY GEZETTE)کوئی نئی خبر آپ نے پڑھی ہے؟